نہال ہاشمی گورنر سندھ مقرر، صدر مملکت نے منظوری دے دی

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق سینیٹر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

صدر مملکت نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 48 اور 101 کے تحت نہال ہاشمی کی بطور گورنر سندھ تقرری کی منظوری دی۔ صدر مملکت نے اس تقرری کے لیے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات ہونے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

رپورٹس کے مطابق نہال ہاشمی باضابطہ طور پر عہدہ سنبھالنے سے قبل سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے روبرو حلف اٹھائیں گے، جس کے بعد وہ سندھ کے 35 ویں گورنر بن جائیں گے۔

نہال ہاشمی کے سیاسی کیریئر پر ایک نظر

نہال ہاشمی کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے معروف وکیل اور سیاست دان ہیں۔ وہ مارچ 2015 سے فروری 2018 تک سینیٹ آف پاکستان کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1992 میں پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت سے کیا۔ 1997 سے 1999 تک وہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق بھی رہے۔

نہال ہاشمی نے کئی اہم مقدمات میں قانونی خدمات سرانجام دیں جن میں نواز شریف کے نیب کیس اور مرتضیٰ بھٹو ٹربیونل شامل ہیں۔

2012 میں وہ کراچی میں مسلم لیگ ن کے صدر مقرر ہوئے جبکہ اگست 2014 میں انہیں سندھ میں پارٹی کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا۔ 2015 کے سینیٹ انتخابات میں وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر پنجاب کی نشست سے سینیٹر منتخب ہوئے۔

2018 میں توہین عدالت کے ایک کیس میں انہیں ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جس کے نتیجے میں ان کی سینیٹ رکنیت ختم ہو گئی اور وہ 5 سال کے لیے نااہل قرار پائے تھے۔

نامزد گورنر سندھ کا ردعمل

نہال ہاشمی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حلف کی ہر صورت پاسداری کریں گے اور کوشش کریں گے کہ سب کو ساتھ لے کر چلیں۔ انہوں نے پارٹی قیادت اور کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حلف اٹھانے کے بعد اپنی ترجیحات طے کریں گے اور آئین کے مطابق فرائض بہتر انداز میں ادا کریں گے۔