اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کے 481 کارندے ہلاک اور 696 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق پاک افواج نے اب تک افغان طالبان رجیم کی 226 چیک پوسٹیں تباہ کی ہیں جبکہ 35 چیک پوسٹوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائیوں کے دوران 198 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں 56 مقامات کو فضائی کارروائیوں میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق یہ اعداد و شمار چار مارچ سہ پہر چار بجے تک کے ہیں اور کارروائیاں طے شدہ اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب مختلف مقامات پر بھاری ہتھیاروں کے ساتھ کارروائیاں کی گئیں۔ قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹرز میں سرحد پار سے مبینہ دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن کے دوران پاکستان نے افغانستان کے اہم بگرام ائیربیس کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق حملے میں ایک ائیرکرافٹ ہینگر اور دو ویئر ہاؤسز تباہ ہوئے، جبکہ اس حوالے سے سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔
واضح رہے کہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

