سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو چکا تھا اور جوہری مذاکرات میں مثبت پیشرفت جاری تھی، اس کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے تھے اور عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان ان مذاکرات کے حوالے سے پُرامید تھا، تاہم اسی دوران حملہ کر دیا گیا۔
اسحاق ڈار نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ایران کو یہ یقین دہانی بھی پاکستان نے دلائی کہ سعودی عرب کی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو غلط رنگ دینا مناسب نہیں، ایرانی قیادت ہماری کوششوں سے بخوبی آگاہ اور شکر گزار ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران کے حق میں جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کی حمایت کی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسئلہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور سفارتی ذرائع سے حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں صرف پاکستان نے کھل کر ایران پر حملے کی مذمت کی، جس کے باعث ایرانی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے لگے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل میں واضح الفاظ میں ایران پر حملے کی مذمت کی اور معاملے کے سفارتی حل پر زور دیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں بعض اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں پاکستان نے کئی ممالک سے رابطے کیے ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور مذاکرات کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے براہ راست رابطے میں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی مشاورت جاری ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات اور سفارت کاری کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں، پاکستان اس تنازع کے پرامن حل کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔

