راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے ذاتی معالجین کے ذریعے میڈیکل چیک اپ کرانے کی درخواست مسترد کر دی۔
درخواست پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی، جہاں بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک پیش ہوئے جبکہ پراسیکیوشن کی نمائندگی اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کی۔
سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں انڈر ٹرائل ملزم ہیں اور کرمنل عدالت کے پاس ضمانت پر ملزم کی کسٹڈی یا علاج سے متعلق معاملات کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار نہیں، مزید یہ کہ پاکستان پریزن رولز میں نجی ڈاکٹروں سے علاج کی کوئی شق موجود نہیں۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر خرم اور ڈاکٹر ثمینہ سے طبی معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے اور اسے قانونی و بنیادی حق قرار دیا گیا، جبکہ سابق مثالوں کا حوالہ بھی دیا گیا۔
وکیل صفائی کے مطابق جیل انتظامیہ نے مکمل میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع نہیں کرائی اور ذاتی معالج تک رسائی ضروری ہے، تاہم سرکاری مؤقف تھا کہ قیدیوں کے علاج کے لیے ڈاکٹرز کا تعین حکومت کرتی ہے اور جیل رولز کے مطابق مناسب طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست خارج کردی اور قرار دیا کہ جیل قوانین کے تحت عمران خان کو مطلوبہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اس لیے ذاتی معالجین تک رسائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

