اسلام آباد خودکش حملہ: منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، ماسٹر مائنڈ گرفتار، محسن نقوی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی جبکہ اس کا ماسٹر مائنڈ، جس کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہے۔

میڈیا سے گفتگو اور پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے حملے سے منسلک تمام سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا ہے اور نوشہرہ و پشاور میں چھاپوں کے دوران چار سہولت کار پکڑے گئے، تاہم آپریشن کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کا ایک اہلکار شہید اور چند زخمی ہوئے۔

وزیر داخلہ کے مطابق حملہ آور کو افغانستان میں تربیت دی گئی اور اس کی آمدورفت سے متعلق معلومات پہلے سے موجود تھیں، جبکہ واقعے سے قبل دو افراد نے ریکی بھی کی تھی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت بھارت کی جانب سے کی جارہی ہے اور دہشت گردوں کو اہداف بھی وہیں سے دیے جاتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایک دہشت گرد کو 500 ڈالر ملتے تھے جو اب بڑھا کر 1500 ڈالر تک کیے جاچکے ہیں اور دہشت گردی کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے اور عوامی تعاون و کمیونٹی انٹیلی جنس انتہائی اہم ہے، ان کے مطابق افغانستان سے 21 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ سیکیورٹی اداروں نے متعدد حملے ناکام بنائے اور “ایک دھماکا ہوا مگر 99 روکے گئے”۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں باہمی تعاون سے کارروائیاں کررہی ہیں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی ان کے استعمال میں آ رہے ہیں، اس حوالے سے پلیٹ فارمز کو کارروائی کا کہا گیا ہے۔

انہوں نے اسلام آباد کی سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر کے 93 داخلی راستے ہیں جبکہ پولیس کی بڑی تعداد 50 سال سے زائد عمر پر مشتمل ہے، جس کے باعث چیلنجز موجود ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک کے خلاف سازش کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔