پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ میں ملاقات کی، جو ذرائع کے مطابق 30 منٹ سے زائد جاری رہی۔
ملاقات میں سلمان اکرم راجہ نے پی ٹی آئی کے سیاسی اور قانونی تحفظات سے چیف جسٹس کو آگاہ کیا، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ان سے ملاقات نہ کرائے جانے کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ صبح سے سپریم کورٹ کے باہر موجود ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی صحت سے بڑھ کر ان کے لیے کوئی معاملہ اہم نہیں۔ ان کے مطابق چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل سے دن بھر رابطے اور ملاقاتیں ہوئیں، تاہم طویل تگ و دو کے بعد حاصل ہونے والا نتیجہ مکمل طور پر تسلی بخش نہیں تھا۔
سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ کوششوں کے نتیجے میں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی بہنوں کو میڈیکل رپورٹس فراہم کی جائیں گی اور رپورٹ ملنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی جدوجہد کا مقصد صرف میڈیکل رپورٹ حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ یہ ایک اخلاقی اور آئینی مقدمہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی وکلاء، خاندان اور رفقاء سے ملاقات کے حق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے آج ہی پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے حتمی اختیار محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو دیا ہے، جبکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات نہ کرائے جانے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سلمان اکرم راجہ اور دیگر پی ٹی آئی رہنما سپریم کورٹ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ اور اٹارنی جنرل سے بھی ملاقاتیں کیں۔
سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی موجودگی اور نعرے بازی کے باعث سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جبکہ سلمان اکرم راجہ کی چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔

