اسلام آباد میں ملک کے معروف ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا کام خود کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، کیونکہ پائیدار صنعتی ترقی کے بغیر معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے قربانیاں دیں اور اب ملک کو گروتھ کی جانب لے جانا ناگزیر ہے، جس کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے مطابق سیاسی اور عسکری قیادت کے تعاون سے ملکی ترقی کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں اور اس ہم آہنگی کے مثبت اثرات معیشت پر واضح ہیں۔
وزیراعظم نے مزید اعلان کیا کہ صنعتوں کے لیے ویلنگ چارجز میں 9 روپے کمی اور ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس کی شرح ساڑھے 7 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد کی جائے گی۔ ایوارڈ یافتہ برآمدکنندگان اور نمایاں کاروباری شخصیات کو دو سال کے لیے بلیو پاسپورٹ دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، معرکۂ حق کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو پذیرائی ملی ہے اور سرمایہ کاری کے لیے رابطے بڑھ رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے، پالیسی ریٹ نمایاں طور پر کم ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر دگنے ہو گئے ہیں اور نجکاری و اصلاحات کے ذریعے اخراجات میں کمی لائی جا رہی ہے۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صنعتی شعبے کو ریلیف دے کر قومی معیشت کو مستحکم کیا جائے گا۔

