اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 4 بی کو 2015 سے برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے اور کیس کے قابلِ سماعت ہونے پر دائر اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔
چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
عدالت کے مطابق، پارلیمنٹ کو قانون سازی کے ذریعے لیوی ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور سپر ٹیکس کے نفاذ میں کوئی آئینی سقم موجود نہیں۔
فیصلے کے نتیجے میں وفاقی حکومت کو تقریباً 310 ارب روپے کی ریکوری متوقع ہے۔
یاد رہے کہ سپر ٹیکس 2015 میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے نافذ کیا گیا تھا، ابتدا میں 300 ملین روپے سے زائد سالانہ منافع کمانے والوں پر 5 فیصد اضافی ٹیکس عائد ہوا، جسے 2022 میں دائرہ کار بڑھا کر 150 ملین روپے سالانہ منافع تک لایا گیا اور شرح زیادہ سے زیادہ 10 فیصد مقرر کی گئی۔
مختلف کاروباری شخصیات، بینکوں اور کمپنیوں نے 2022 کے سپر ٹیکس کو ماضی سے اطلاق اور دہرے ٹیکس کی بنیاد پر چیلنج کیا تھا۔ کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں 2019 سے شروع ہوئی، بعد ازاں آئینی ترامیم کے تحت آئینی بینچ اور پھر وفاقی آئینی عدالت منتقل ہوئی، جہاں مجموعی طور پر 71 سماعتیں ہوئیں۔
عدالت نے آئل اینڈ گیس سیکٹر کو رعایت کے لیے ٹیکس کمشنر سے رجوع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ہائی کورٹس کے سیکشن 4 سی سے متعلق بعض فیصلوں کو جزوی طور پر کالعدم بھی قرار دیا، جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

