پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، پیس آف بورڈ میں شمولیت صرف فلسطین میں امن کیلئے ہے: احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے پیس بورڈ میں شمولیت صرف فلسطین میں قیامِ امن کے مقصد سے اختیار کی ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں کو اس اقدام سے شدید تکلیف ہو رہی ہے۔

نارووال کے علاقے فتووال میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے واضح کیا کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور پیس بورڈ میں شمولیت صرف فلسطین میں امن کیلئے ہے، لیکن اس پر بھارت اور پاکستان کی اپوزیشن دونوں کو پریشانی لاحق ہے۔

غزہ بورڈ آف پیس کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ ایسے معاہدے کابینہ کی منظوری سے ہوتے ہیں اور وزیراعظم نے خود تصدیق کی کہ کابینہ نے اس کی منظوری دی۔ ان کا کہنا تھا کہ دعوت نامہ ملنے پر وقت کم تھا، اگر پاکستان شریک نہ ہوتا تو اپوزیشن پھر تنقید کرتی، تاہم وزیراعظم نے تمام کابینہ اراکین سے مشاورت کے بعد شمولیت کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین جھوٹے الزامات لگا کر خود اپنی سزائیں بھگت رہے ہیں، دوسروں کو چور ڈاکو کہنے والوں نے ملکی معیشت کو 60 ارب روپے کا نقصان پہنچایا اور آج 14 سال کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان نے پاکستانی سیاست میں نفرت کا زہر گھولا، جس شخص نے کبھی ایک یونین کونسل نہیں چلائی اسے وزیراعظم بنا دیا گیا اور اس نے معیشت کو تباہ کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت اتنا بڑا خسارہ چھوڑ کر گئی جسے سنبھالنا کسی بھی حکومت کیلئے مشکل تھا، مگر آج دنیا پاکستان کو معاشی بحالی پر مبارکباد دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان دیوالیہ ہو جاتا تو ہم معرکہ حق نہیں جیت سکتے تھے، بھارت کے حملے کا ایسا جواب دیا گیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آج تاریخ خود سچ اور جھوٹ کا فرق واضح کر رہی ہے، نوجوانوں کو کٹے اور مرغیوں کے بجائے لیپ ٹاپ دیے جا رہے ہیں جبکہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی سیکھنے کیلئے ایک ہزار ماہرین چین بھیجے گئے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ فتووال کو پاکستان کا سب سے بڑا پھول پیدا کرنے والا علاقہ بنایا جائے گا اور حکومت دن رات ملک کی خدمت میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو عالمی سطح پر عزت و احترام حاصل ہے اور پاکستان کے برادر ممالک کے ساتھ مثالی تعلقات قائم ہیں۔