پیکا ایکٹ متنازع ٹویٹس ٹرائل میں عدلیہ کا غیر معمولی تحمل، کیا یہ سب کے لیے ممکن ہے؟ عبدالقیوم صدیقی نے عدالتی رعایتوں پر سوال اٹھا دیا
سینئیر صحافی اور تجزیہ کار عبدالقیوم صدیقی کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت درج متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو عدالتوں کے ساتھ تعاون نہ کرنے اور لگاتار تاخیری حربے استعمال کرنے کے باوجود مسلسل ٹرائل کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے ریلیف مل رہا ہے۔
قومی سلامتی کے اداروں پر نام لے کر الزام تراشی، منفی پروپیگنڈہ، عوام میں اداروں کے خلاف نفرت انگیز جذبات بھڑکانے اور سوشل میڈیا پر دہشت پھیلانے کے بعد اب عدالتوں میں وکلا کو کھلے عام دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں
سوشل میڈیا پر اپنے پروگرام AQS Live میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو کور کرنے والے صحافی اویس یوسفزئی اور ٹرائل کورٹ پر نظر رکھنے والے صحافی ارفع فیروز کے ساتھ پیکا ایکٹ کے تحت درج متنازع ٹویٹس کیس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سب کے سامنے ہے کہ کیسے اتنے عرصے سے ایکس سابقہ ٹویٹر پر قومی سلامتی کے اداروں پر نام لے کر الزام تراشی، منفی پروپیگنڈہ، عوام میں اداروں کے خلاف نفرت انگیز جذبات بھڑکانے اور سوشل میڈیا پر دہشت پھیلانے کے بعد اب عدالتوں میں وکلا کو کھلے عام دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
4 ماہ سے جاری عدالتی کاروائی میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے عدلیہ کے خلاف غیر مہذب رویے اور مسلسل مقدمے سے راہ فرار اختیار کے باوجود عدلیہ کی جانب سے اسپیشل ریلیف کیوں؟
سینئیر صحافی اور تجزیہ کار عبدالقیوم صدیقی نے پروگرام میں سوال اٹھایا کہ 22 اگست 2025 سے 22 جنوری 2026 کے دوران 5 ماہ کے عرصے میں 4 ماہ سے عدالتی کاروائی جاری ہے جس میں اب تک 44 سماعتیں اور پیشیاں ہو چکی ہیں مگر ملزمان مسلسل عدالتی کاروائی سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ کبھی ایک ملزم پیش ہوتا ہے تو دوسرا غائب، کبھی دوسرا پیش ہوتا ہے تو پہلا غائب مگر عدالت کی جانب سے صبر و تحمل کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کب دونوں ملزمان آئیں اور کاروائی کا آغازہو۔ کیا یہ سہولت سب ملزمان کو میسر ہوتی ہے یا ان ملزمان کو اسپیشل ریلف دیا جا رہا ہے؟
جسٹس اعظم خان نے تین دن کا وقت دیتے ہوئے 24 جنوری تک استغاثہ کے گواہان پر جرح مکمل کرنے اور ٹرائل کو امن و امان اور بنا کسی خلل کے پورا کرنے کا حکم دیا
پروگرام میں اویس یوسفزئی نے گزشتہ سماعت کا احوال سناتے ہوئے بتایا کہ کل ٹرائل کورٹ نے پیکا ایکٹ کے تحت درج متنازع ٹویٹس کیس میں ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جس پر انہوں نے اپنی ضمانت بحال کروانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں جسٹس محمد اعظم خان نے انہیں ریلیف دیتے ہوئے ضمانت بحال کر دی۔
اویس یوسفزئی نے بتایا کہ اس موقع پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل کی جانب سے عدالت سے ایک ہفتے کا مزید وقت مانگا گیا لیکن جسٹس اعظم خان نے انہیں تین دن کا وقت دیتے ہوئے 24 جنوری تک استغاثہ کے گواہان پر جرح مکمل کرنے اور ٹرائل کو امن و امان اور بنا کسی خلل کے پورا کرنے کا حکم دیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے پولیس گرفتاری سے بچنے کے لیے رات اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی کے دفتر میں دیگر ساتھی وکلا اور میڈیا کے لوگوں کے ساتھ گزاری
اویس یوسفزئی نے سماعت کا آنکھوں دیکھا حال سناتے ہوئے بتایا کہ ضمانت ملنے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ٹرائل کورٹ جا کر اپنا کیس آگے بڑھانا تھا لیکن اسی وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں پولیس کی بھاری نفری جن میں لیڈی پولیس اہلکار بھی شامل تھیں کو دیکھ کر انہیں اندازہ ہوا کے ان کو آج ضمانت ملنے کے باوجود گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس پر انہوں نے جب پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ دونوں میاں بیوی 27 جولائی 2025 کو دائر ایک اور مقدمے میں بھی نامزد ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال کے بعد اس نئے مقدمے میں ضمانت لینے کی کوشش کی گئی جو عدالتی وقت ختم ہونے کے باعث کامیاب نہ ہو سکی جس پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے پولیس گرفتاری سے بچنے کے لیے رات اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی کے دفتر میں دیگر ساتھی وکلا اور میڈیا کے لوگوں کے ساتھ گزاری۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ہمیں ان مقدمات میں بھی ضمانت دی جائے جس کا ہمیں معلوم نہیں
ان کا کہنا تھا کہ آج دوبارہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل کامران مرتضیٰ کی جانب سے جسٹس اعظم خان کے سامنے اس نئے مقدمے میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی جس پر عدالت کی طرف سے ان کی دو دن کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی گئی۔
اس موقع پر وکیل کامران مرتضی کی جانب سے عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ یہ عدالتی احکامات کے ساتھ مذاق ہے کہ ان کے موکل کو ضمانت ملنے کے باوجود پولیس کی جانب سے گرفتاری کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے، انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ہمیں ان مقدمات میں بھی ضمانت دی جائے جس کا ہمیں معلوم نہیں۔
جسٹس میاں گل اورنگزیب کی جانب سے عمران خان کو بھی اسی طرز پر ان تمام مقدمات میں قبل از وقت ضمانتیں دی تھیں جن کا انہیں معلوم نہیں تھا
انہوں نے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماضی کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا جہاں جسٹس میاں گل اورنگزیب کی جانب سے عمران خان کو بھی اسی طرز پر ان تمام مقدمات میں قبل از وقت ضمانتیں دی تھیں جن کا انہیں معلوم نہیں تھا، اسی طرح جسٹس محسن اختر کیانی نے بھی ایک کیس میں بنا پیش ہوئے عمران خان کو ضمانت دے دی تھی۔
یہ ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ کی ماڈل ٹرائل کورٹ میں لگ رہا ہے
ارفع فیروز نے ٹرائل کورٹ میں جاری مقدمے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت درج متنازع ٹویٹس کیس میں پیکا ایکٹ کی 9، 10، 11 اور 26-اے دفعات شامل ہیں اور یہ ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ کی ماڈل ٹرائل کورٹ میں لگ رہا ہے۔
ملزمان حیلے بہانے سے کیس میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں
ارفع فیروز نے پروگرام میں مزید بتایا کہ ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کی جانب سے استغاثہ کے تین گواہان پر جرح باقی ہے، جس پر عدالت کی جانب سے انہیں جرح جلد مکمل کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے لیکن کبھی وہ میڈیکل کی بنیاد پر اور کبھی کسی اور حیلے بہانے سے اس میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں جبکہ یہ تمام چیزیں ان کا کیس مزید کمزور کر رہی ہیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل صفائی نعیم گجر نے عدالت میں روسٹرم پر کھڑے ہو کر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میں دیکھتا ہوں یہ جرح کیسے ہوتی ہے، میں ہاتھ توڑ دوں گا
ارفع فیروز نے سماعت کا آنکھوں دیکھا حال سناتے ہوئے بتایا کہ ایک موقع پراستغاثہ کے وکیل رانا عثمان کی جانب سے جرح جلد مکمل کرنے کی درخواست کی گئی جس پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل صفائی نعیم گجر نے عدالت میں روسٹرم پر کھڑے ہو کر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میں دیکھتا ہوں یہ جرح کیسے ہوتی ہے، میں ہاتھ توڑ دوں گا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ مسلسل اس کیس کو سیاسی ثابت کرنے اور عدالتی ماحول کو تلخ بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں
ارفع فیروز کا کہنا تھا کہ میرے خیاال سے ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ اور ان کے وکلا کو ٹرائل کورٹ میں تھوڑا تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ بہت سے نوجوان وکلا ان عدالتوں میں کیس پروسیڈنگز سے سیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ مسلسل اس کیس کو سیاسی ثابت کرنے اور عدالتی ماحول کو تلخ بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ کی جانب سے جرح مکمل کرنے کے لیے 24 جنوری دوپہر ساڑھے تین بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے
ارفع فیروز نے بتایا کہ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ کی جانب سے جرح مکمل کرنے کے لیے 24 جنوری دوپہر ساڑھے تین بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے، اگر اس دوران جرح مکمل نہیں ہوتی تو وکیل صفائی کا جرح کا حق ختم کر دیا جائے گا۔
پیکا ایکٹ کے تحت درج متنازع ٹویٹس کیس میں کب کیا ہوا؟
عبدالقیوم صدیقی نے پروگرام میں کیس کی ٹائم لائن کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ 22 اگست 2025 کو نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے پیکا ایکٹ کی دفعات 9، 10، 11 اور 26-اے کی مسلسل خلاف ورزی ہر ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف ایف آئی آر نمبر 234/2025 درج کی اور الزامات کے باوجود ان کو گرفتار کرنے کی بجائے صرف شامل تفتیش کیا گیا۔
بعدازاں، 29 اگست 2025 کو ایمان مزاری کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت میں عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے رجوع کیا جسے فوری طور پر منظور کر لیا گیا۔
5 ستمبر 2025 کو وکیل کی عدم دستیابی پر سماعت ملتوی کی گئی اور 11 ستمبر 2025 کو درجن بھر وکلا کے جتھے کے ساتھ عدالت پر حملہ آور ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور کر لی گئی۔
آرڈر شیٹ کے مطابق، 13 ستمبر 2013 کو استغاثہ نے چالان جمع کروایا اور 17 ستمبر 2025 کو کیس دوبارہ جج افضل مجوکہ کی عدالت کو بھجوایا گیا۔ عدالت کی جانب سے مسلسل طلب ناموں کے باوجود ملزمان 20 اور 22 ستمبر کو عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر دونوں ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔
24 ستمبر کو دونوں ملزمان نے عدالت میں پیش ہوکر اپنے وکلا تبدیل کیے جس پر عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے گئے۔ 30 ستمبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے کیس 3 مرتبہ کال ہوا مگر ملزمان پیش نہ ہوئے۔
بعدازاں، ملزمان کے وکیل کی جانب سے وکالت نامہ واپس لینے پر عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بحال کر دیے۔ تاہم، یکم اکتوبر کو ملزمان کے نئے وکیل کی درخواست پر وارنٹ منسوخ کرتے ہوئے عدالت نے ضمانت بھی بحال کر دی اور ملزمان کو جواب جمع کروانے کے لیے مزید مہلت بھی دی۔
7، 11، 13، 16، 20 اور 24 اکتوبر کی پیشیوں پر بھی ملزمان کی جانب سے التوا کی درخواستیں جمع کروائی گئیں۔ 29 اکتوبر کو بھی متعدد بار کیس کال ہونے کے باوجود ملزمان کی مسلسل غیر حاغری پر عدالت کی جانب سے ہادی علی چٹھہ کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔
30 اکتوبر کو دوبارہ ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی، ایما ن مزاری کے وکلا کی جانب سے فرد جرم کا جواب دیا، اس موقع پر ہادی علی چٹھہ کی جانب سے عدالت میں غیر مہذب طرز عمل اور گفتگو کے باوجود عدالت کی جانب سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کے وکیل کی معذرت پر وارنٹ منسوخ کرتے ہوئے مچلکے بھی بحال کر دیے اور استغاثہ کو اگلی تاریخ پر گواہ پیش کرنے کا حکم دیا۔
آرڈر شیٹ کے مطابق، 5 نومپر 2025 کی سماعت کے موقع پر ملزمان نے عدالت کے خلاف غیر شائستہ رویہ اپنایا اور موقف اختیار کیا کہ چونکہ انہوں نے عدالت کے خلاف ایم آئی ٹی میں درخواست دی ہے اس لیے عدالت سماعت آگے نہ بڑھائے، جس کے باعث سماعت ملتوی کرنا پڑی۔
اس موقع پر ملزمان نے شہادت ریکارڈ ہونے کے دوران احاطہ عدالت میں ہنگامہ آرائی کی حتیٰ کی اپنے ہی وکلا سے بھی بدسلوکی کی اور عدالت سے فرار ہو گئے جس پر ان کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔
6 نومبر کو ملزمان نے عدالتی وقت کے بعد پیش ہو کر ضمانت منسوخی کی درخواست کی اور نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی، عدالت کی جانب سے ایک بار پھر ملزمان کو ریلیف دیتے ہوئے وارنٹ منسوخ کر کے مہلت دی گئی۔
8، 14 اور 17 نومبر کی سماعتوں میں بھی دونوں ملزمان مختلف حیلے بہانوں سے غیر حاضر رہے اور سماعت ملتوی ہوتی رہی۔ 19 نومبر کی سماعت پر دونوں ملزمان کی جانب سے ایک بار پھر ٹرائل کی کاروائی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی گئی، ایمان مزاری کی جانب سے ذاتیغیر حاضری کی درخواست عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد جمع کروائی گئی جبکہ ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش تو ہوئے مگر ان کا رویہ عدالتی وقار کے حوالے سے نامناسب رہا۔
عدالت نے ملزمان کے نامناسب رویے کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی ایمان قسم کی تاذیری کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ایمان مزاری کی حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کرتے ہوئے استغاثہ کے گواہان کی شہادت ریاستی کونسل کی موجودگی میں ریکارڈ کی گئی۔
اس موقع پر ملزم ہادی علی چٹھہ کی جانب سے نا صرف عدالتی کاروائی میں مداخلت کی گئی بلکہ اپنی اہلیہ ایمان مزاری کی وکیل کو بھی احاطہ عدالت سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ بعدازاں، ملزمان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا جہاں سے دونوں اعلیٰ عدلیہ نے انہیں ایک بار پھر ریلف دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو گواہان کی شہادتوں کو دوبارہ ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔
آرڈر شیٹ کے مطابق، اس مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے 8 وکلا کے وکالت نامے جمع کروائے گئے، جب جرح کا آخری گواہ رہ گیا تو عدالتی کاروائی میں رخنہ ڈالنے کا آغاز ہوا۔ ایمان مزاری نے طبعیت کی خرابی کا بہانہ کرتے ہوئے حاضری سے استثنیٰ مانگا، جسے عدالت نے بغیر کسی میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے دو دن تک تو منظور کیا لیکن تیسرے دن سماعت کی کاروائی کا حکم دیتے ہوئے عدم حاضری پر وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ضمانت منسوخ کر دی۔
20 جنوری 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک بار پھر ملزمان کو ریلف دیتے ہوئے عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے اور تین دن میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا۔

