پی ٹی آئی جو دوسروں کو طعنے مارا کرتی تھی کہ یہ فارم 47 کی حکومت ہے، اب اسی فارم 47 کے اسپیکر سے اپنے فارم 47 کے اپوزیشن لیڈر کا تقرر کروا تو لیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی کے پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ اختلافات کب شروع ہوتے ہیں۔
کیا پی ٹی آئی میں ایسا کوئی ہیرا یا نگینہ نہیں تھا کہ ان کو اس اہم عہدے کے لیے ایک سیٹ والی جماعت کی طرف دیکھنا پڑا
سینئیر صحافی اور تجزیہ کار عبدالقیوم صدیقی کا اپنے سوشل میڈیا پروگرام AQS Live میں کہنا تھا کہ کیا پی ٹی آئی میں ایسا کوئی ہیرا یا نگینہ نہیں تھا کہ ان کو اس اہم عہدے کے لیے ایک سیٹ والی جماعت کی طرف دیکھنا پڑا اور کیا یہ تقرر لمبے عرصے تک چلے گا بھی کہ نہیں۔
پروگرام میں عبدالقیوم صدیقی کے ساتھ پارلیمنٹ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ دفاعی امور پر مہارت رکھنے والے سینئیر صحافی و تجزیہ کار احمد منصور، عدالتی صحافت کا بڑا نام اور اڈیالہ کے راز و نیاز سے باخبر سینئیر صحافی طیب بلوچ اور پارلیمانی صحافت کے بڑے نام سینئیر صحافی طارق عزیز شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اپوزیشن لیڈر کا پالیسی بیان بہت اہمیت کا حامل ہوگا، چیف الیکشن کمیشنز کی مدت اور ممبران کے تقرر کے حوالے سے ان کے فیصلوں کو دیکھنا ہوگا۔
مار دھاڑ، 9 مئی، 26 نومبر سب کر کے دیکھ لیا کچھ حاصل نہیں ہوا، اب اپوزیشن کو تحمل سے بیٹھ کر اس نظام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے کیونکہ یہی پائیدار حل ہے
انہوں نے کہا کہ حالیہ ایران میں ہونے والے واقعات کے بعد یہ بہت ضروری تھا کہ پاکستان میں ایسے حالات پیدا نہ ہوں اس کے لیے محمود خان کا تقرر جمہوریت کے لیے بہت ضروری تھا، اس سے حکومت کو ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے وقت بھی ملے گا اور حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر بیٹھنے سے پارلیمانی نظام بھی مظبوط ہوگا کیونکہ مار دھاڑ، 9 مئی، 26 نومبر سب کر کے دیکھ لیا کچھ حاصل نہیں ہوا، اب اپوزیشن کو تحمل سے بیٹھ کر اس نظام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے کیونکہ یہی پائیدار حل ہے۔
سزا یافتہ عمران خان آئین کے آرٹیکل 63-اے کے تحت اپوزیشن لیڈر کا تقرر کرنے کا اختیار نہیں رکھتے
عبدالقیوم صدیقی کا کہنا تھا کہ ویسے تو محمود خان کی تقرری متنازع ہے کیونکہ سیاسی پارٹی ہیڈ کا کردار آئین کے آرٹیکل 63-اے میں واضح ہے جس کے مطابق سزا یافتہ شخص سیاسی معاملات میں حصہ نہیں لے سکتا اور اس حوالے سے عمران خان خود ماضی میں ایک پٹیشن کا حصہ رہ چکے ہیں جس میں پانامہ میں سزا یافتہ نواز شریف کو سینیٹ الیکشن کے ٹکٹ کی تقسیم سے روکا گیا تھا، اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سابق بانی ممبر اکبر ایس بابر بھی عدالت جانے کا اشارہ دے چکے ہیں کہ عمران خان آئین کے اس آرٹیکل کے تحت اپوزیشن لیڈر کا تقرر کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔
محمود خان اچکزئی خان صاحب کو یہی مشورہ دیں گے کہ آپ اب ایک جمہوری اور سیاسی رول ادا کرتے ہوئے صبر کریں اور چپ کر کے اپنی سزا پوری کریں
عبدالقیوم صدیقی کے سوال کہ محمود خان اچکزئی اس سسٹم سے عمران خان کے لیے کیا سہولیات یا نرمی لے سکیں گے پر طیب بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ خان صاحب کو یہی مشورہ دیں گے کہ آپ اب ایک جمہوری اور سیاسی رول ادا کرتے ہوئے صبر کریں اور چپ کر کے اپنی سزا پوری کریں۔
محمود خان اچکزئی کو خان صاحب کو سمجھانا چاہیے کہ آپ کی اننگز ختم ہوچکی ہے جو آپ نے بویا وہ کاٹ رہے ہیں اب آپ ہمیں اختیار دیں
احمد منصور کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کو اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے ایک قیدی کے لیے کوئی ریلیف نہیں لینا چاہیے، ہاں البتہ خان صاحب کو سمجھانا چاہیے کہ آپ کی اننگز ختم ہوچکی ہے جو آپ نے بویا وہ کاٹ رہے ہیں اب آپ ہمیں اختیار دیں۔
عمران خان کو شکست ہو چکی ہے اور وہ کہیں نہ کہیں اسے تسلیم بھی کر چکے ہیں
طارق عزیز کا کہنا تھا کہ محمود خان اب عمران خان کے لیے کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے، عمران خان کو شکست ہو چکی ہے اور وہ کہیں نہ کہیں اسے تسلیم بھی کر چکے ہیں جس کا اندازہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے ہوتا ہے۔
پی ٹی آئی نے ایک طرح سے حکومت اور سارے سیٹ اپ کو قبول کر کے اس سسٹم کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے
سینئیر صحافی طارق عزیز کا پروگرام میں کہنا تھا کہ میرے خیال سے اس چیز کو اب تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے، لیڈر آف دی اپوزیشن کی نشست بہت عرصے سے خالی تھی جس پر اب باقاعدہ تقرری ہو گئی ہے، چاہے یہ فارم 47 کا اپوزیشن لیڈر ہو یا نہ ہو بہرحال ایک آئینی عہدہ جو کافی عرصہ سے خالی تھا اور اس کا ملکی سیاست میں بہت اہم رول ہوتا ہے نگران سیٹ اپ سے لے کر الیکشن کمیشن میں مشاورت تک، اس فیصلے سے پی ٹی آئی نے ایک طرح سے حکومت اور سارے سیٹ اپ کو قبول کر کے اس سسٹم کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے جسے مثبت انداز سے دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے میں عمران خان کی مرضی شامل ہو گی، اس سے ملکی سیاست میں جو تناؤ تھا وہ کم ہوگا اور معاملات بات چیت اور مذاکرات سے طے ہوں گے۔
پی ٹی آئی کا احتجاج بھی جاری رہے گا، مذاکرات بھی ہوتے رہیں گے اور محمود خان اچکزئی اپنی مدت بھی پوری کریں گے
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا احتجاج بھی جاری رہے گا، مذاکرات بھی ہوتے رہیں گے اور محمود خان اچکزئی اپنی مدت بھی پوری کریں گے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اپوزیشن لیڈر کے تقرر کا نوٹیفیکشن زین قریشی نے وصول کیا جو ایک سال سے زائد عرصے کے بعد منظر عام پر آئیں ہیں اور اسی وقت شاہ محمود قریشی کے مذاکرات کے حواے سے بیان سامنے آئیں ہیں۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ ایک سیاسی چال تھی کہ شاید محمود خان حکومت کو قابل قبول نہیں ہوں گے لیکن ان کی یہ چال بیک فائر کر گئی
سینئیر صحافی اور دفاعی تجزیہ کار احمد منصور کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کی تقرری پی ٹی آئی اور عمران خان کی بہت بڑی ناکامی اور شکست ہے، جو یہ بات کرتے ہیں کہ عمران خان مائنس نہیں ہو سکتا وہ اب دیکھ لیں کہاں ہے عمران خان؟
ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ ایک سیاسی چال تھی کہ شاید محمود خان حکومت کو قابل قبول نہیں ہوں گے لیکن ان کی یہ چال بیک فائر کر گئی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بچی کچی پی ٹی آئی یہ بات کرتی ہے کہ ہم نے بات ہی اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ کسی سے نہیں کرنی اور جو اپوزیشن لیڈر انہوں نے بنوایا ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے بات ہی صرف سیاست دانوں سے کرنی ہے۔
8 فروری اب صرف علامتی ہوگا، اب نہ کوئی 9 مئی ہوگا نہ 26 نومبر
انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر محمود خان اچکزئی وزیراعظم کی ملکی معاملات پر مذاکرات کی دعوت قبول کر کے اس کا حصہ بنتے ہیں تو کیا عمران خان ان کو بااختیار بنائیں گے؟ اس کے لیے اگر عمران خان اور محمود خان کی ملاقات کروائی جاتی ہے تو وہ کافی اہمیت کی حامل ہوگی۔
احمد منصور کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے بعد 8 فروری اب صرف علامتی ہوگا بلکہ یہ 8 فروری کے بعد بھی کوئی نئی تاریخ دے دیں گے اور یہ سلسلہ جاری رکھیں گے جو ان کا آئینی حق بھی ہے لیکن اب نہ کوئی 9 مئی ہوگا نہ 26 نومبر۔
عمران خان کو ایک کٹھ پتلی چاہیے ہوتا ہے اپنے فیصلے تھوپنے کے لیے، ان کی پارٹی میں اپنی سوچ رکھنے والی کی کوئی جگہ نہیں ہوتی
ان کا کہنا تھا کہ محمود خان کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی عزت بچا پائیں گے کہ نہیں کیونکہ عمران خان کو ایک کٹھ پتلی چاہیے ہوتا ہے اپنے فیصلے تھوپنے کے لیے، ان کی پارٹی میں اپنی سوچ رکھنے والی کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اب دیکھنا ہے کہ محمود خان پارلیمان کو چلانے، قائمہ کمیٹیوں اور مذاکرات کے حوالے سے اپنی مرضی کے فیصلے کر پائیں گے۔
پی ٹی آئی خود کو سب سے بڑی اور مقبول جماعت کہلواتی ہے لیکن ان میں ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں ہے یہاں ہربیس بندوں میں ایک لیڈر بنا ہوا ہے
سینئیر صحافی طیب بلوچ کا کہنا تھا کہ وقت کا پہیہ دیکھیں کیسے گھومتا ہے کہ کل تک جو محمود خان اچکزئی نواز شریف کا قریبی ساتھی اور پی ڈی ایم حکومت میں شہباز شریف کے ساتھ مل کر عمران خان کی حکومت گرانے میں تحریک عدم اعتماد کا حصہ تھا وہی آج عمران خان نے اپوزیشن لیڈر بنا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور پی ٹی آئی جو سیاست میں غلیظ زبان استعمال کرتی ہے اس کو بھی کھلے عام تنقید کا بناتے ہیں، ساتھ ہی اپنے دورہ لاہور میں انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ ایسے تو پی ٹی آئی خود کو سب سے بڑی اور مقبول جماعت کہلواتی ہے لیکن ان میں ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں ہے یہاں ہربیس بندوں میں ایک لیڈر بنا ہوا ہے۔
سلمان اکرم راجہ اور علیمہ خانم نے میڈیا پر آ کر کہا کہ ہم کسی مذاکرات کو نہیں مانتے، ہمیں خان صاحب نے سہیل آفریدی کی قیادت میں سٹریٹ موومنٹ شرع کرنے کا حکم دیا ہے
طیب بلوچ کا کہنا تھا کہ جس دن محمود خان نے مذاکرات والی بات کی انہوں نے ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ تحریک تحفظ آئین کی ایک کمیٹی پی ٹی آئی قیادت کو اس مذاکرات کے عمل کے حوالے سے اعتماد میں لے گی اور اگر مجھے عمران خان کی طرف سے تحریری ضمانت دینی پڑی تو میں وہ بھی دوں گا، لیکن اسی دن سلمان اکرم راجہ اور علیمہ خانم نے میڈیا پر آ کر کہا کہ ہم کسی مذاکرات کو نہیں مانتے، ہمیں خان صاحب نے سہیل آفریدی کی قیادت میں سٹریٹ موومنٹ شرع کرنے کا حکم دیا ہے اور ہم اس کے لیے 8 فروری کی تاریخ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آگے چل کر محمود خان اچکزئی اور علیمہ خانم آمنے سامنے آئیں گے، کیونکہ سوشل میڈیا تو وہی کنٹرول کرتی ہیں، وہاں سے محمود خان کے خلاف گالم گلوچ شروع ہو جائے گی جسے وہ پہلے بھی بھگت چکے ہیں جب عمران خان خود کنٹینر پر چڑھ کر ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

