وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں ان کی مرضی کے مطابق کھانا فراہم کیا جاتا ہے، انہیں تمام ضروری سہولیات میسر ہیں اور ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ ملاقاتوں کا اختیار جیل سپرنٹنڈنٹ کے پاس ہوتا ہے اور حکومت اس حوالے سے کسی قسم کی ہدایات دینے کی مجاز نہیں۔
ان کے مطابق، عمران خان سے متعلق رپورٹ اسپیکر قومی اسمبلی کو فراہم کی جا چکی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ انہیں ہفتہ وار اہلیہ سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے اور جیل قوانین کے مطابق سہولیات دی جا رہی ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جیل مینوئل کے تحت قیدی سیاسی معاملات پر گفتگو نہیں کر سکتے اور یہ معاملہ عدالت اور جیل انتظامیہ کے درمیان ہے، جس پر وہ باقاعدہ رپورٹ لے کر ایوان میں پیش کریں گے۔
دریں اثنا، اڈیالہ جیل میں پمز اسپتال کے ڈاکٹروں کی تین رکنی ٹیم نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا، جس میں آنکھوں، دانتوں اور عمومی صحت کا جائزہ لیا گیا۔
ڈاکٹروں نے کچھ ادویات تجویز کیں اور میڈیکل رپورٹ جیل حکام کو ارسال کرنے کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔

