افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، دہشت گردی کو دوبارہ کچل دیں گے: وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان گٹھ جوڑ کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور دشمن کی جانب سے دہشت گردوں کو ہر قسم کے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا ناسور ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے، تاہم جس طرح 2018 میں دہشت گردی کو شکست دی گئی تھی، اسی عزم اور قوت کے ساتھ اس بار بھی اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور دہشت گردوں کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں قومی اتحاد اور یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
تمام مکاتبِ فکر کے جید علما کی موجودگی خوش آئند ہے اور مسائل کا حل مل بیٹھ کر بات چیت سے نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے دشمنوں کی پشت پناہی سے متحرک ہیں، مگر ریاست پوری قوت سے ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان لاکھوں قربانیوں کے بعد وجود میں آیا اور یہاں تمام مذاہب اور مکاتبِ فکر کو مکمل آزادی حاصل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے، جن سے درست استفادہ کیا جائے تو غربت، بے روزگاری اور قرضوں جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان، پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کنوینر مولانا طاہر اشرفی نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ علما و مشائخ نظریاتی محاذ پر بھرپور کردار ادا کریں گے، انتہاپسندی اور فکری دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کیا جائے گا اور پیغامِ پاکستان کو تعلیمی و سماجی سطح پر عام کیا جائے گا۔

