پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت افغانستان اور ٹی ٹی پی کی وکالت کے بجائے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر توجہ دے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر کے پی نے وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ اگر دہشتگردی میں افغانستان ملوث نہیں تو پھر پولیس، ایف سی، پاک فوج کے جوانوں اور معصوم شہریوں کو کون شہید کر رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت یہ چاہتی ہے کہ فوج نکل جائے اور آپریشن نہ ہو، تو کیا پولیس خالی ہاتھ دہشتگردوں سے مقابلہ کرے گی؟
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وفاق نے سو فیصد وسائل فراہم نہیں کیے، مگر جو فنڈز ملے وہ کہاں خرچ کیے گئے، کیا ضم اضلاع میں ایک بھی نیا تھانہ بنایا گیا؟
ان کا کہنا تھا کہ 13 سال سے صوبے میں حکمران جماعت کی کارکردگی صفر ہے، ضم اضلاع کے فنڈز مکمل نہیں ملے اور جو ملے ان کا بھی کوئی شفاف حساب موجود نہیں۔
گورنر کے پی نے کہا کہ صوبے میں تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں لیکن سب سے پہلی ترجیح سیکیورٹی ہونی چاہیے، وزیراعلیٰ افغانستان کی نمائندگی کے بجائے اپنے صوبے کے مسائل پر توجہ دیں، کیونکہ عالمی برادری بھی تسلیم کر چکی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج کی قربانیوں کے باعث دنیا پاکستان کی صلاحیتوں کو مان رہی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے ساتھ کاروباری دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے، ایسے میں صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ مسلح افواج اور پولیس کے ساتھ کھڑی ہو، آئی ڈی پیز کے لیے پیشگی انتظامات کرے اور امن کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔

