پی ٹی آئی کی نئے میثاقِ جمہوریت کی پیشکش، الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو اور شفاف انتخابات کا مطالبہ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نئے میثاقِ جمہوریت کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو باضابطہ دعوت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایسی تشکیلِ نو کا مطالبہ کیا ہے جس پر تمام سیاسی فریقین کا اتفاق ہو۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جس میں سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات کے فوری خاتمے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بحالی اور سیاسی اسیران کے ساتھ انصاف و قانونی برابری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

قرارداد میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے کارکنوں پر لاٹھی چارج اور سندھ حکومت کی جانب سے پارٹی دوروں میں رکاوٹیں ڈالنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملک ایک نازک اور پیچیدہ سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے جس کا حل جمہوری اتفاقِ رائے میں ہے۔

پی ٹی آئی نے شفاف، آزاد اور منصفانہ نئے انتخابات کے انعقاد پر زور دیا جبکہ خیبر پختونخوا میں بلائے گئے امن جرگے کے اعلامیے کو من و عن تسلیم کرنے اور اس پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

پارلیمانی پارٹی نے تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے قائدین کے دورۂ لاہور کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

دوسری جانب، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں اور بانی پی ٹی آئی چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے۔

انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کے بعد بتایا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کر دیے گئے ہیں اور جمعرات تک نوٹیفکیشن جاری ہونے کا امکان ہے، جبکہ پیپلزپارٹی نے اس حوالے سے کوئی دستاویزات جمع نہیں کروائیں۔