نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا غیر متنازع اور اٹوٹ علاقہ ہے اور کوئی بیرونی ادارہ یا ریاست اس حقیقت کو بدلنے کا نہ قانونی اور نہ ہی اخلاقی حق رکھتی ہے۔
جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیلی اقدامات کو صومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
اسحاق ڈار نے اسرائیلی وزیر خارجہ کے صومالی لینڈ کے دورے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی غیر قانونی اور غیر حقیقی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر اس مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام لازم ہے اور ایسے کسی بھی بیان یا اقدام کو کوئی قانونی یا سیاسی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی اقدامات ہارن آف افریقہ اور بحیرہ احمر میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے او آئی سی کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیلی اقدام کو مشترکہ بیان میں مسترد کیا ہے۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے جنگ کے فوری خاتمے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کسی بھی قسم کی جبری بے دخلی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد ریاست فلسطین کے قیام کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کو دہرایا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
نائب وزیر اعظم نے او آئی سی سے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے مزید مؤثر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ عالمی برادری کو ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کا ہر صورت احترام کرنا ہوگا۔

