وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے لیے قرآن پاک میں واضح ہدایات موجود ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق ضروری کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کسی بھی غیرقانونی اقدام سے نمٹنے کے لیے ریاست کا مؤقف اور طریقہ کار بالکل واضح ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے جامعہ اشرفیہ لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مولانا فضل الرحیم کی وفات پر اظہار تعزیت کیا اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحیم کے ساتھ ان کا عقیدت اور احترام کا تعلق تھا اور انہوں نے جامعہ اشرفیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
محسن نقوی نے احتجاج اور امن و امان سے متعلق سوالات کے جواب میں کہا کہ قانون نافذ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور احتجاج سے نمٹنے کا تجربہ موجود ہے، اگر ایسی صورتحال دوبارہ پیدا ہوئی تو قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات جن کا کام ہے وہی کریں گے، تاہم ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے اپنے افسران کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سیکیورٹی کے لیے فراہم کی جانے والی گاڑیاں واقعی ان افراد تک پہنچیں جن کے لیے مختص کی گئی تھیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی کارکردگی پر سوالات کے جواب خود ہی سامنے آ جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے احتجاج سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتجاج سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور ریاست کے خلاف کوئی بھی ہتھیار اٹھائے گا تو اس سے نمٹنے کا طریقہ سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ علما کرام محفوظ ہیں اور آئندہ بھی ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ افراد کی حیثیت محدود ہے، جس پر انہوں نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

