اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت رمضان پیکج سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم نے اس سال بھی غریب اور مستحق خاندانوں میں امدادی رقوم کی تقسیم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کرنے کی ہدایت جاری کی۔
وزیراعظم نے پیکج کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں سے عملی سفارشات طلب کیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال رمضان پیکج کے تحت 40 لاکھ خاندانوں کو فی خاندان 5 ہزار روپے کے حساب سے مجموعی طور پر 20 ارب روپے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کیے گئے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے دہائیوں سے جاری بدعنوانی، بدنظمی اور غریبوں کے استحصال کے نظام کو حکومت نے شفاف اور منظم ڈیجیٹل نظام میں تبدیل کیا، جس کے باعث مستحق افراد کو بلاواسطہ اور باعزت انداز میں امداد ملی۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے امدادی رقوم کی فراہمی نہ صرف عوام کی عزت و تکریم کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے بلکہ کیش لیس معیشت کے فروغ میں بھی سنگِ میل ثابت ہوگی، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شمولیت سے اس عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ رمضان کے لیے پچھلے سال سے زیادہ مؤثر پیکج تیار کیا جائے، مستحقین کے دائرہ کار کو وسعت دی جائے اور مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ نظام وضع کیا جائے۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ گزشتہ سال کے رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن عالمی شہرت یافتہ آڈٹ فرم نے کی جس میں کسی مالی بدعنوانی یا سنگین انتظامی بدنظمی کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
مزید بتایا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سوشل پروٹیکشن والٹ نظام نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مستحق افراد میں مفت سمز تقسیم کی جا رہی ہیں اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم اسی سم کے ذریعے ڈیجیٹلی فراہم کی جائیں گی۔

