عطا تارڑ کے پی ٹی آئی پر سنگین الزامات، ٹی ٹی پی کا سیاسی ونگ قرار دے دیا

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سہولت کاری کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی درحقیقت ٹی ٹی پی کا سیاسی ونگ بن چکی ہے اور اسی لیے دہشت گرد تنظیم کے خلاف دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن ہے اور ریاست آخری دم تک اس کا تعاقب کر کے اس کا خاتمہ کرے گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سال 2025 ہر لحاظ سے پاکستان کے لیے کامیابیوں کا سال ثابت ہوا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے معرکۂ حق میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی اور اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کی جانب سے دشمن کے جنگی طیارے مار گرانے پر عالمی سطح پر تصدیق اور اعتراف ہو چکا ہے اور بین الاقوامی فورمز پر اس کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

عطا تارڑ نے معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو حالات انتہائی افراتفری کا شکار ہو جاتے، تاہم موجودہ حکومت نے بروقت فیصلوں سے معیشت کو سنبھالا۔

ان کے مطابق، حکومتی پالیسیوں پر بزنس کمیونٹی اور صنعتکاروں کا اعتماد بحال ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، اسٹاک ایکسچینج نے نئے ریکارڈ قائم کیے اور صرف دسمبر میں 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔

انہوں نے سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کیا گیا، تاہم اب پاکستان عالمی سطح پر دوبارہ اہم مقام حاصل کر رہا ہے۔ وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں کے نتیجے میں تجارتی اور دفاعی تعاون میں پیش رفت ہوئی، ملائیشیا نے پاکستان سے حلال گوشت اور چاول درآمد کرنے کی خواہش ظاہر کی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی فریم ورک معاہدہ اور دیگر بین الاقوامی اقدامات پاکستان کی سفارتی بحالی کا ثبوت ہیں۔

وفاقی وزیر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گورننس ناکام ہو چکی ہے، نہ کوئی واضح روڈ میپ ہے اور نہ ہی صحت و تعلیم کے شعبوں پر توجہ دی گئی۔ انہوں نے خواتین کی تضحیک کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو نشانہ بنانا بزدلی کی علامت ہے اور خیبرپختونخوا حکومت کا یہ رویہ شرمناک ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دیں، جبکہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔

ان کے مطابق، ضربِ عضب کے بعد خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوا تھا لیکن آج دوبارہ مسائل جنم لے رہے ہیں جن کی سیاسی ذمہ داری تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے۔