بھارت کا من گھڑت دہشت گردی بیانیہ حقائق نہیں چھپا سکتا، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کا دہشت گردی سے متعلق من گھڑت بیانیہ اور پاکستان کے خلاف جارحانہ الزامات زمینی حقائق کو نہیں چھپا سکتے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت خطے میں امن کو مسلسل نقصان پہنچانے والا ملک رہا ہے اور اس کا ریکارڈ خود اس کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، بھارت بیرونِ ملک ماورائے عدالت قتل، ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور کلبھوشن جیسے آپریٹوز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہے، جبکہ مطلوب مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں بھی فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کو بڑھتی ہوئی ہراسانی اور جبر کا سامنا ہے جو ہندوتوا نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔

ترجمان نے دہلی میں فیض الٰہی مسجد اور ملحقہ جائیدادوں کے انہدام کو بھارت کی مسلم مخالف پالیسیوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام اور بعد ازاں مندر کی تعمیر کا ہی تسلسل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو دوسروں پر الزام تراشی کے بجائے اپنے رویے اور اقدامات پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

پاک سعودی دفاعی تعاون سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات مضبوط اور کثیرالجہتی نوعیت کے ہیں، تاہم کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرض سے متعلق کسی حتمی معاہدے کی اطلاع نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد ہی کی جائے گی۔

سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے سے متعلق قیاس آرائیوں پر ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے کسی فیصلے کی معلومات نہیں، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون باہمی معاہدوں اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت جاری ہے۔

افغانستان کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان مخاصمانہ رویہ نہیں چاہتا مگر اس کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان سرزمین کو دیگر ممالک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، اس حوالے سے پاکستان قابلِ تصدیق اور تحریری ضمانتوں کا منتظر ہے۔