“میں نہ مانوں” والی سوچ نے پارٹی کو نقصان پہنچایا، شیر افضل مروت

اسلام آباد میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام قومی کانفرنس کے دوران رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حالیہ فیصلوں پر کھل کر تنقید کی۔

کانفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، لیاقت بلوچ، بیرسٹر سیف، عمران اسماعیل اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ ملک کی اتنی بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود اپوزیشن لیڈر کسی اور کو نامزد کر دیا گیا، سوال یہ ہے کہ یہ کس نوعیت کے فیصلے ہو رہے ہیں اور کیا ایک بھی فیصلہ درست ثابت ہوا ہے؟

انہوں نے کہا کہ “میں نہ مانوں” والی سوچ نے پارٹی کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تاہم مذاکرات صرف قیدیوں کی رہائی تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ بنیادی نظام اور ریاستی ڈھانچے پر بھی ہونے چاہئیں۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے کبھی قومی سلامتی کے تصور کو درست طور پر سمجھنے کی کوشش نہیں کی، تاریخ میں صلح حدیبیہ اور نیلسن منڈیلا کی مثالیں موجود ہیں جہاں ڈائیلاگ نے دیرپا نتائج دیے۔

شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ فوج کو پاکستان کی طاقت بننا چاہیے، پاکستان کو فوج کی طاقت نہیں بننا چاہیے۔

ان کے مطابق، 27ویں ترمیم کے بعد عدلیہ اپنی آزادی کھو چکی ہے اور اصل سوال یہ ہے کہ مذاکرات پر عملدرآمد کون کروائے گا؟ انہوں نے واضح کیا کہ ڈائیلاگ صرف بانی چیئرمین عمران خان یا کوٹ لکھپت کے قیدیوں کی رہائی کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح کے لیے ہونا چاہیے۔

دوسری جانب، بیرسٹر سیف نے کہا کہ سیاسی پولرائزیشن کی وجہ سے ملک کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اس نوعیت کے مذاکرات اور مکالمے سے قومی مسائل میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے انہیں سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ضرورت ہے، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ضروری ہے، تاہم عمران خان کی رہائی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال سے حکمران طبقہ خائف ہے۔