کابینہ کمیٹی سے مستقل ہونے والے افسران کے لیے بری خبر

وفاقی حکومت نے گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے افسران کی مستقل تعیناتی کے معاملے پر اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایک آفس میمورنڈم جاری کیا ہے، جس کے تحت کابینہ کمیٹی برائے ریگولرائزیشن سے مستقل ہونے والے افسران کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایات

سپریم کورٹ نے کابینہ کمیٹی برائے ریگولرائزیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس کمیٹی کو صرف گریڈ 1 سے 15 کے ملازمین کو مستقل کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ اس فیصلے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے محکموں میں کابینہ کمیٹی کے ذریعے مستقل کیے گئے گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے افسران کے کیسز فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کو بھیجیں۔

ایف پی ایس سی دوبارہ ٹیسٹ اور انٹرویوز لے گا

آفس میمورنڈم کے مطابق، ایف پی ایس سی ان تمام امیدواروں کی دوبارہ جانچ پڑتال کرے گا، ان کے ٹیسٹ اور انٹرویوز لیے جائیں گے تاکہ ان کی فٹنس اور اہلیت کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا سکے۔

کون کون متاثر ہوگا؟

اس فیصلے سے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز میں درجنوں سول افسران متاثر ہوں گے، جن میں شامل ہیں:

  • بورڈ آف امیگریشن
  • فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)
  • اسٹیٹ آفس
  • فیڈرل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ
  • فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن، پاسپورٹ آفس اور دیگر ادارے

فیصلے کا اطلاق کن اداروں پر نہیں ہوگا؟

یہ فیصلہ صرف سول پوسٹوں اور ایف پی ایس سی کی اسامیوں پر لاگو ہوگا۔ خودمختار ادارے، کارپوریشنز اور اتھارٹیز اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔

اگلا مرحلہ؟

وزارت قانون کی حتمی رائے کے بعد تمام متاثرہ افسران کے کیسز کو ایف پی ایس سی بھیجا جائے گا، جہاں ان کی اہلیت کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ اس پیش رفت کے بعد ان افسران کی ملازمت کا مستقبل غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہو گیا ہے۔