کابل: افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے طالبان کی موجودہ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی تبدیلی ناگزیر ہے اور بہت قریب ہے، اس لیے اقتدار فوری طور پر افغان عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔
اپنے حامیوں سے آن لائن خطاب کے دوران گلبدین حکمت یار نے کہا کہ خارجہ و داخلہ پالیسی، بجٹ اور جنگ و امن جیسے اہم قومی فیصلوں کا اختیار صرف عوام کے منتخب اداروں کے پاس ہونا چاہیے۔ انہوں نے طالبان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ماضی میں سوویت یونین اور امریکا کی حمایت سے قائم ہونے والی حکومتیں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکیں، اسی طرح طالبان کا اقتدار بھی برقرار نہیں رہ سکے گا اور انہیں جنگ یا امن میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہو گا۔
حزب اسلامی کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ طالبان حکومت اس وقت شدید عالمی اور سیاسی تنہائی کا شکار ہے اور خطے یا دنیا میں ان کا کوئی دائمی یا اسٹریٹجک اتحادی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور نئی دہلی سمیت جو ممالک طالبان سے رابطے میں ہیں، وہ صرف اپنے مفادات کے تحت کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ طالبان کے دورِ حکومت میں افغان عوام کو شدید بے روزگاری، بدامنی اور غربت کا سامنا ہے، جبکہ مخالفین کو برداشت نہ کرنے والی پالیسی خود طالبان کے زوال کا سبب بنے گی۔

