سعودی عرب میں پاکستانی دستے کئی دہائیوں سے موجود ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کی تصدیق

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور پاکستانی عسکری دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت فوج کی تعیناتی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی دستے مختلف شعبوں (ڈومینز) سے تعلق رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ ریاض میں منعقدہ مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب پر حملوں اور حرمین شریفین کو درپیش خطرات کی شدید مذمت کرتے ہوئے دفاعی صلاحیتوں اور فوجی قوت کی فوری فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں اتحاد کے باقاعدہ فریم ورک کو فعال کرتے ہوئے پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو 3 سال کے لیے مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔

7 اگست کو طے پانے والے اس معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ میں سے کسی ایک ملک پر جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔