واشنگٹن: امریکا نے برطانوی رائل ایئر فورس (RAF) کے فیئرفورڈ ایئربیس پر ممکنہ سیکیورٹی حملے کے خدشات کے پیش نظر وہاں تعینات تمام بی ون (B-1) اور بی-52 بمبار طیارے واپس امریکا میں اپنے متعلقہ اڈوں پر منتقل کر دیے ہیں۔
پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ایئربیس کے قریب مشکوک سرگرمیوں اور حملے کی منصوبہ بندی کے شبہے میں گرفتاریوں کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق ستمبر کے آخر میں ایئربیس کے قریب مشکوک گاڑیوں کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے 6 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، تاہم تفتیش کے دوران گاڑیوں سے صرف پیٹرول ملا اور دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، جس کے بعد تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
برطانوی حکام نے واقعے کا ممکنہ تعلق ایران سے جوڑا ہے تاہم تہران نے اس میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فارورڈ بیس سے طیاروں کی واپسی کے باوجود امریکی فضائیہ (بی ون، بی ٹو اور بی-52) امریکی سرزمین سے براہِ راست پرواز کر کے دنیا بھر میں اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ آر اے ایف فیئرفورڈ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری کارروائیوں کے لیے اہم اڈے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔

