اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ ذہنیت کو ترک کر کے ایک ذمہ دار ریاست کی طرح سوچنا ہو گا، پاکستان خطے میں پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے لیکن ہماری امن کی خواہش کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔
اسلام آباد میں افغانستان کی صورتحال اور بین الاقوامی پارلیمنٹیرینز کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ افغان عوام اور وہاں کی عبوری حکومت کے نظریات میں واضح فرق ہے۔
افغان شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق، تعلیم اور اپنے مستقبل کے فیصلوں کا پورا اختیار ملنا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور سرحد پار سے پاکستان میں تخریبی کارروائیاں شدید تشویش کا باعث ہیں، جن کا پہلے بھی بھرپور جواب دیا گیا ہے اور آئندہ بھی دیا جائے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ افغانستان میں تعلیم اور امن کے بغیر معاشی خوشحالی ممکن نہیں، اگر افغان عبوری حکومت دہشت گردی کا خاتمہ اور ذمہ دارانہ رویہ اپناتی ہے تو اس سے وسطی ایشیا سے پاکستان تک تجارت اور ترقی کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ دوستانہ حل کے لیے مذاکرات اور اعلیٰ سطح کے وفود بھیجنے کی حمایت کی ہے، تاہم پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔

