پی ٹی آئی سنجیدہ مذاکرات کرے، بانی کی رہائی کے لیے شہروں پر چڑھائی ممکن نہیں: اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سنجیدہ مذاکرات کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت نے کبھی گفتگو سے انکار نہیں کیا، تاہم احتجاج، دھرنوں اور شہروں پر چڑھائی کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن نہیں کیونکہ اس کا قانونی فورم صرف اور صرف عدالت ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا اور تقریب سے خطاب کے دوران وزیر قانون نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے موقعوں کو ضائع کرتی رہی ہے اور دباؤ کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

خیبرپختونخوا میں آئینی بحران اور 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا واضح طریقہ کار موجود ہے، اگر صوبائی حکومت امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں آئینی تقاضے پورے نہیں کرتی اور حالات اس حد تک بگڑتے ہیں تو آئینی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما سینیٹر علی ظفر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بات چیت کے لیے ایک قدم آگے بڑھائے، تاخیر کے باوجود کمیٹیوں کے ذریعے بند کمرے میں مذاکرات ممکن ہیں، تاہم 4 اکتوبر کا احتجاجی پروگرام فی الحال حتمی ہے۔

اس کے جواب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ وہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی دھمکیوں سے خائف ہونے والے نہیں اور نہ ہی اپنے موقف سے پیچھے ہٹیں گے۔