اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دیں گے، محسن نقوی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت پر کسی صورت دھاوا بولنے یا چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اگر کسی نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف کوہاٹ میں دہشت گردی کے المناک واقعے پر شہداء کے جنازے اٹھائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف دھرنوں کی تیاری زیب نہیں دیتی۔ وزیر داخلہ نے متنبہ کیا کہ اگر سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ یا تشدد کیا گیا تو وہ خاموش نہیں رہیں گے، اور خدانخواستہ کوئی جانی نقصان ہوا تو اس کے ذمہ دار مارچ کے آرگنائزرز ہوں گے۔

محسن نقوی نے اپوزیشن کو اپنے متعلقہ شہروں میں پرامن احتجاج کی ہدایت کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اپنانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی 90 فیصد توجہ ٹرانسپورٹ اور بندے اکٹھے کرنے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے پر ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پرامن احتجاج حق ہے لیکن شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کر کے راستے یا دارالحکومت بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔