واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 24.3 ارب ڈالر مالیت کے 48 جدید F-35 اسٹیلتھ جنگی طیاروں اور متعلقہ دفاعی آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
محکمہ خارجہ کے باضابطہ بیان کے مطابق، اس دفاعی پیکیج میں 48 طیاروں کے ساتھ 49 پراٹ اینڈ وٹنی انجنز، مواصلاتی و الیکٹرانک جنگی نظام، اسپیئر پارٹس، سمیولیٹرز اور تربیتی سامان شامل ہو گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس فروخت سے سعودی عرب کو موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور امریکی افواج کے ساتھ باہمی تعاون بڑھ جائے گا، جبکہ اس سے خطے میں فوجی توازن تبدیل نہیں ہو گا۔ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری بھی درکار ہو گی۔
یہ اہم پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں شدت آئی ہے۔ 17 ستمبر کو طائف میں حوثی ڈرون حملے کا ملبہ گرنے سے ایک یمنی شہری جاں بحق اور ایک پاکستانی سمیت دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ اس سے قبل مکہ کی جانب آنے والے ڈرون کو بھی تباہ کیا گیا تھا۔ لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ اسٹیلتھ F-35 طیارے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور اسرائیل فی الوقت مشرق وسطیٰ کا واحد ملک ہے جو انہیں آپریٹ کر رہا ہے۔

