واشنگٹن: سابق امریکی سی آئی اے ڈائریکٹر اور ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اعتراف کیا ہے کہ مشرقی خلیجی ریاستوں میں فعال امریکی فوجی اڈوں کو موجودہ صورت حال میں برقرار رکھنا اب پہلے کی طرح قابلِ عمل اور محفوظ نہیں رہا۔
‘گلوبل گیمبٹ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈیوڈ پیٹریاس نے ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود امریکی ایئر بیسز اور انفراسٹرکچر اب دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے امریکی فضائی دفاعی صلاحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا اپنے تقریباً نصف میزائل انٹرسیپٹرز استعمال کر چکا ہے، اور 50 ہزار ڈالر کے ڈرون کو گرانے کے لیے لاکھوں ڈالر کا مہنگا انٹرسیپٹر داغنا طویل مدتی حکمتِ عملی نہیں ہو سکتی۔ پیٹریاس نے یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی دفاع کو کم لاگت ڈرونز اور جدید جنگی حکمتِ عملی کی طرف منتقل کرنے پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران کی جانب سے اردن، کویت، بحرین، یو اے ای، عراق اور قطر میں واقع امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی سب سے بڑی فوجی تنصیب ‘العدید ایئر بیس’ بھی شامل ہے۔

