ابھینندن کا ’ہیرو‘ سے ATR-42 تک سفر؛ بھارتی فضائیہ کی شکست چھپانے والی ہیروگیری کا بھانڈا پھوٹ گیا؟

2019 میں پاکستان کے شاہینوں کے ہاتھوں طیارہ گنوانے، گرفتار ہونے اور پاکستانی چائے پینے والے بھارتی پائلٹ کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کے پیچھے آخر کیا کہانی تھی؟ اب ریٹائرمنٹ کے بعد مقامی ایئرلائن میں ملازمت نے بھارتی ’ہیرو ازم‘ کے پورے بیانیے پر سوال اٹھا دیے ہیں۔

بھارت میں جنگی شکست کو کامیابی، پسپائی کو بہادری اور ہزیمت کو ’ہیرو ازم‘ میں تبدیل کرنے کی ایک پوری بیانیہ مشینری موجود ہے۔ اس مشینری کا سب سے نمایاں چہرہ 2019 میں سامنے آنے والا بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان بنا، جسے پاکستان کے خلاف فضائی کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا، مگر واپسی کے بعد اسے ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا۔

یہاں سوال ابھینندن کی ذات سے زیادہ اس نظام کا ہے جو ایک شکست خوردہ آپریشن کے کردار کو بھی قومی فتح کی علامت بنا سکتا ہے۔

2019: جب بھارتی دعووں کا سامنا پاکستان کے شاہینوں سے ہوا

فروری 2019 میں بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی۔ اگلے روز پاکستان ایئر فورس نے بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو روکا اور فضائی جھڑپ کے نتیجے میں ابھینندن کا MiG-21 طیارہ پاکستانی حدود میں گر کر تباہ ہوا۔

ابھینندن کو گرفتار کیا گیا اور پاکستان نے اسے چند روز بعد جذبۂ خیرسگالی کے تحت بھارت کے حوالے کر دیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب ایک فوجی آپریشن کی ناکامی کو بھارت میں ایک مختلف بیانیے کے ذریعے پیش کیا گیا۔

ابھینندن کو ’بہادر‘ قرار دیا گیا، اسے اعزازات دیے گئے اور اس واقعے کو اس انداز میں پیکج کیا گیا کہ شکست کا اصل سوال پس منظر میں چلا گیا۔

مگر کسی بھی جنگی پائلٹ کی اصل قدر کا پیمانہ میڈیا کی شہرت نہیں بلکہ عملی کارکردگی، جنگی نتائج اور ادارے کا اس پر اعتماد ہوتا ہے۔

اگر وہ اتنا بڑا ہیرو تھا تو پھر آگے کیا ہوا؟

یہیں سے کہانی کا دلچسپ پہلو شروع ہوتا ہے۔

ایک ایسے پائلٹ کو، جسے بھارتی ریاستی و میڈیا بیانیے نے 2019 کے بعد قومی ہیرو کے طور پر پیش کیا، مستقبل میں بھارتی فضائیہ کے کسی اہم فائٹر پروگرام، جدید جنگی طیاروں کے منصوبے یا کسی نمایاں آپریشنل ذمہ داری کا مرکزی کردار بننا چاہیے تھا۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا کہ اس ’ہیرو‘ کی عملی فوجی حیثیت اور مستقبل میں ذمہ داریاں آخر کیا رہیں؟

اب اس کی ریٹائرمنٹ اور بعد کی ملازمت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے اس سوال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ابھینندن نے بھارتی فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک علاقائی ایئرلائن میں شمولیت اختیار کی، جہاں اسے ATR-42 جیسے ٹربوپراپ مسافر طیارے اڑانے کی ذمہ داری ملی۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی کمرشل یا علاقائی ایئرلائن میں ملازمت بذاتِ خود کوئی ’سزا‘ یا تضحیک نہیں۔ دنیا بھر میں فوجی پائلٹس ریٹائرمنٹ کے بعد کمرشل ایوی ایشن میں جاتے ہیں۔ اصل سوال کچھ اور ہے:

جس شخص کو بھارت نے ایک جنگی فتح اور قومی بہادری کی علامت بنایا، کیا اس کی بعد کی فوجی پیش رفت بھی اسی غیر معمولی صلاحیت اور اعتماد کی عکاسی کرتی ہے؟

اصل کہانی ایک پائلٹ نہیں، پورے بیانیے کی ہے

ابھینندن کا معاملہ دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

بھارت میں جنگ اور دفاع سے متعلق ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے جس میں فوجی کارروائیوں کو اکثر انتہائی جذباتی قومی فخر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ میڈیا، سیاسی بیانات، سرکاری تشہیر اور ایوارڈز مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں شکست کے پہلو دب جاتے ہیں اور کردار ’ہیرو‘ بن جاتے ہیں۔

2019 میں بھی یہی ہوا۔

ایک بھارتی جنگی طیارہ گرا، پائلٹ گرفتار ہوا، مگر چند ہی دنوں میں پوری کہانی کا مرکز شکست کے بجائے پائلٹ کی ’بہادری‘ بن گیا۔

یہ بیانیہ سازی صرف ابھینندن تک محدود نہیں۔ یہ بھارتی ریاستی اور میڈیا کلچر کے اس رجحان کی مثال ہے جہاں جنگی نتائج سے زیادہ جنگی کہانی اہم بنا دی جاتی ہے۔

’ہیرو‘ بنانے سے شکست کا نتیجہ تبدیل نہیں ہوتا

جنگ میں طیارہ گرنے کے بعد پائلٹ کو ایوارڈ مل جائے تو اس سے طیارہ واپس نہیں آتا۔

میڈیا میں اسے ہیرو بنا دیا جائے تو فضائی جنگ کا نتیجہ تبدیل نہیں ہوتا۔

اور قومی جذبات کے ذریعے شکست کو کامیابی کے رنگ میں پیش کیا جائے تو بھی تاریخ میں درج واقعہ اپنی جگہ رہتا ہے۔

2019 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی جھڑپ نے دونوں ممالک کی فضائی صلاحیتوں، حکمتِ عملی اور جنگی دعوؤں کو عملی امتحان میں ڈال دیا تھا۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ اس نے بھارتی طیارے گرائے اور ابھینندن کو گرفتار کیا، جبکہ بھارت نے اپنے نقصانات اور کارروائی کے حوالے سے مختلف مؤقف اختیار کیے۔

لیکن اب بھی بنیادی سوال وہی ہے:

اگر یہ واقعہ بھارتی فضائی برتری کی علامت تھا تو اسے مسلسل اسی سطح کی عملی کامیابیوں میں کیوں تبدیل نہیں کیا گیا؟

معرکہ حق کے بعد سوال مزید بڑا ہو گیا۔

حالیہ پاک بھارت فوجی کشیدگی، جسے پاکستان میں ’معرکہ حق‘ کے تناظر میں بیان کیا گیا، نے ایک مرتبہ پھر بھارتی فضائی طاقت کے دعووں کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

معرکہ حق میں رافیل جیسے جدید ترین جنگی طیارے گنوانے سمیت مصدقہ ہزیمت اٹھانے والی بھارتی فضائیہ شکست تسلیم کرنے کی بجائے جعلی ہیروگیری کی کوششوں میں لگی ہے لیکن دنیا اس تماشے پر یقین کرنے کی بجائےصرف ہنس دیتی ہے۔

ایسے میں 2019 کا ابھینندن واقعہ محض ماضی کا ایک قصہ نہیں رہتا۔

یہ اس بڑے سوال کا حصہ بن جاتا ہے کہ کیا بھارت جنگی شکستوں کے بعد اپنی عوام کے سامنے ایک متبادل ’ہیرو‘ کی کہانی پیش کرکے اصل فوجی نتائج پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے؟

فلمی ہیروگیری یا حقیقی جنگی صلاحیت؟

ایک پیشہ ور فوجی ادارے میں اصل ہیرو وہ نہیں ہوتا جس کی تصویر پوسٹروں پر چھپ جائے۔

اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جس کی صلاحیت، فیصلہ سازی، جنگی کارکردگی اور ادارے پر اعتماد وقت کے ساتھ ثابت ہو۔

اگر کسی شخص کو قومی ہیرو بنا کر پیش کیا جائے لیکن اس کے بعد اس کی عملی فوجی پیش رفت وہ غیر معمولی حیثیت ثابت نہ کرے جو میڈیا نے اس کے نام سے وابستہ کی تھی، تو سوال صرف اس شخص پر نہیں اٹھتا۔

سوال اس پورے نظام پر اٹھتا ہے جو اسے ہیرو بنا رہا تھا۔

ابھینندن کی کہانی اسی لیے اہم ہے۔

یہ صرف ایک بھارتی پائلٹ کی کہانی نہیں۔

یہ ریاستی بیانیے، میڈیا پروپیگنڈے، جنگی شکست کو قومی فتح میں تبدیل کرنے اور مصنوعی ہیرو تراشنے کے پورے ماڈل پر سوال ہے۔

پاکستان کے شاہینوں کے مقابلے میں 2019 میں جو کچھ ہوا، اسے جتنے مرضی تمغوں، بیانات اور ٹی وی اسکرینوں کے ذریعے نئے رنگ میں پیش کیا جائے، ایک حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے:

جنگ میں اصل فیصلہ کہانی سنانے والا نہیں، میدان کا نتیجہ کرتا ہے۔

اور اگر ایک ’ہیرو‘ کی اصل کہانی برسوں بعد خود اس کے کیریئر کے سفر سے سوال بن کر سامنے آنے لگے، تو پھر مسئلہ صرف ایک پائلٹ کا نہیں رہتا۔

پھر پوری ہیرو بنانے والی فیکٹری ہی کٹہرے میں آ جاتی ہے۔