اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے اور ملاقاتیں بحال کرنے کا حکم
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں مبینہ قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا ہے اور جیل حکام کو حکم دیا ہے کہ دونوں کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور ان کی فیملی سے ملاقاتیں بحال کی جائیں۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خان اور مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے دائر درخواستوں پر 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی قیدی کے انسانی روابط مکمل طور پر ختم نہیں کیے جا سکتے۔
فیصلے میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی گئی کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپس میں اور اہل خانہ سے جیل قوانین کے مطابق ملاقاتیں کرائی جائیں جبکہ عمران خان کی ان کے بیٹوں سے واٹس ایپ آڈیو یا ویڈیو گفتگو کا انتظام بھی کیا جائے۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات، کتابیں، جیل رولز کے مطابق طبی سہولیات اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے تحت روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی کی اجازت دینے کی بھی ہدایت کی۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اگر بیٹوں سے گفتگو کی آڈیو کا سیاسی مقاصد کے لیے غلط استعمال ہوا تو یہ سہولت واپس لے لی جائے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ان تمام عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے 15 دن میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

