طالبان حکومت نے افغانستان بھر میں ہر قسم کے مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کر دی

کابل: افغانستان میں طالبان انتظامیہ نے ملک گیر سطح پر ہر قسم کے احتجاجی مظاہروں اور اجتماعات پر مکمل قانونی پابندی عائد کر دی ہے۔

افغان میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ملاحبت اللہ اخوندزادہ نے 53 دفعات پر مشتمل نئے پولیس قانون یعنی ’قانونِ شرطہ‘ کی منظوری دے دی ہے، جسے افغان وزارتِ انصاف نے باقاعدہ گزٹ میں شائع کر دیا ہے۔

اس قانون کی شق 50 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کے مظاہرے یا احتجاج کی مطلق اجازت نہیں ہوگی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

نئے قانون کے تحت افغان پولیس کا نام تبدیل کر کے ’شرطہ‘ رکھ دیا گیا ہے اور وزارتِ داخلہ کو اس قانون پر عمل درآمد کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ قانون میں جہاں پولیس اور سیکیورٹی حکام کے اختیارات اور فرائض کا تعین کیا گیا ہے، وہیں یہ ہدایت بھی شامل کی گئی ہے کہ پولیس اہلکار گرفتاری کے دوران ملزمان یا زیرِ حراست افراد کے ساتھ تشدد، لاٹھی، کوڑے یا کیبل کے استعمال سے گریز کریں اور کسی کی جسمانی صحت یا عزتِ نفس کو نقصان نہ پہنچائیں۔

واضح رہے کہ طالبان اس سے قبل سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر چکے ہیں، جبکہ نئے قانون کے ذریعے احتجاجی مظاہروں پر عائد عارضی پابندی کو بھی باقاعدہ قانونی شکل دے دی گئی ہے۔