ملک میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹی کی تجویز زیرِ غور

اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید گرانی، ایندھن کے استعمال میں کمی اور قومی اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اہم تجاویز پر غور شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ہفتے میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹی کا نظام متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو دفاتر، اسکولوں، کالجوں اور جامعات کو مکمل بند رکھنے کے ساتھ ساتھ سرکاری عملے کے لیے ‘ورک فرام ہوم’ اور روٹیشن پالیسی اپنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ 50 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے اور بازاروں کے اوقات کار محدود کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے بات نہ تو اجلاس میں ہوئی اور نہ ہی ان کے علم میں ہے۔

واضح رہے کہ فی الوقت اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر اقدامات کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اور قومی خزانے پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔