سانحہ پمز: آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ جاری، 14 نومولود بچوں کی موت کی وجوہات سامنے آ گئیں

اسلام آباد: پمز (PIMS) اسپتال کی ایم سی ایچ نرسری میں 26 اگست کو پیش آنے والے آتشزدگی کے دلخراش واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی حتمی انکوائری رپورٹ جاری کر دی ہے۔

سابق وفاقی سیکریٹری شاہد خان کی سربراہی میں قائم 52 نکاتی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، نرسری میں آگ لگنے کی بنیادی وجہ اے سی یونٹ نمبر 2 کی برقی کیبل میں تکنیکی و برقی خرابی (شارٹ سرکٹ) تھی۔ رپورٹ میں کسی بھی قسم کی تخریب کاری، آتش زنی، انکیوبیٹر یا آکسیجن لیکیج کے شواہد کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سانحے کے وقت 10 بستروں کے یونٹ میں گنجائش سے زائد 15 نومولود بچے زیر علاج تھے، جن میں سے 14 جاں بحق ہوئے جبکہ 1 بچہ محفوظ رہا۔ رپورٹ کے مطابق، واقعے کے وقت وہاں موجود ڈیوٹی نرسوں اور عملے نے فوری اور بہادری سے بچوں کو بچانے کی کوشش کی، تاہم اسپتال انتظامیہ کی جانب سے فائر ڈیٹیکشن، الارم اور ہنگامی انخلا (SOPs) کے عدم وجود اور سابقہ فائر سیفٹی وارننگز کو نظرانداز کرنے کے باعث یہ تباہ کن ادارہ جاتی ناکامی سامنے آئی۔

کمیٹی نے کسی بھی فرد کے خلاف فوری مجرمانہ جرم ثابت نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے برقی تنصیبات اور غفلت کے مرتکب شعبوں کے خلاف مزید تفصیلی فوجداری تحقیقات، اور ملک بھر کے اسپتالوں میں فوری فائر و الیکٹریکل آڈٹ کی سفارش کی ہے۔