گلاسگو: گلاسگو میں منعقدہ 2026 کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی مہم انتہائی مایوس کن انداز میں محض ایک تمغے کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ پاکستان نے اس بار مختلف کھیلوں کے لیے 21 ایتھلیٹس کا دستہ گلاسگو بھیجا تھا، تاہم تمغوں کی دوڑ میں صرف خاتون باکسر فاطمہ زہرا ہی کامیابی حاصل کر سکیں۔
یہ پچھلے 36 سالوں (1990 کے بعد) میں کامن ویلتھ گیمز کے دوران پاکستان کی خراب ترین کارکردگی بن گئی ہے۔ یاد رہے کہ 1998 کے گیمز میں پاکستان نے صرف ایک سلور میڈل جیتا تھا، جبکہ 4 سال قبل برمنگھم میں ہونے والے ایونٹ میں پاکستان نے 2 گولڈ سمیت مجموعی طور پر 7 تمغے اپنے نام کیے تھے۔
ایونٹ کے آخری روز تمغے کی بڑی امید سمجھے جانے والے جوڈو کے شاہ حسین شاہ پہلی ہی باؤٹ میں ناک آؤٹ ہو کر باہر ہو گئے، جبکہ اس سے قبل جیولن تھرو میں ارشد ندیم بھی ٹاپ 8 میں جگہ نہ بنا سکے تھے۔
تمام تر مایوسی کے درمیان 22 سالہ پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے خواتین کی 60 کلوگرام کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ (برانز میڈل) جیتا۔ وہ کامن ویلتھ گیمز کے باکسنگ ایونٹ میں تمغہ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئی ہیں۔
کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی جورڈن ولسن کو 5-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنانے والی فاطمہ زہرا کو سیمی فائنل میں کینیڈا کی میری باتھول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم فارمیٹ کے تحت ان کا کانسی کا تمغہ پکا ہو گیا۔ اس کامیابی سے پاکستان کو 12 سال بعد کامن ویلتھ باکسنگ میں کوئی میڈل نصیب ہوا ہے۔
اس کے برعکس دیگر مقابلوں میں پاکستانی ایتھلیٹس کی کارکردگی انتہائی ناگفتہ بہ رہی؛ مردوں کی 60 کلوگرام باکسنگ میں قدرت اللہ، ایتھلیٹکس کی 400 میٹر ریس میں محمد اسماعیل (41ویں پوزیشن) اور سوئمنگ کے 50 میٹر بٹر فلائی ایونٹ میں حمزہ آصف (46ویں پوزیشن) کے ساتھ ہی اگلے مرحلے کی دوڑ سے باہر ہو گئے تھے۔

