اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان لفظی جنگ میں شدید تلخی آ گئی ہے۔ سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے آزاد کشمیر انتخابات میں بدترین دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’فارم 47 پلس‘ کارروائی قرار دیا ہے، جس پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات کی تاریخ کو آزاد کشمیر میں دہرایا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کو ہرانے کے لیے وفاق، حکومتِ پنجاب اور الیکشن کمیشن کا باہمی گٹھ جوڑ تھا। انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) خیراتی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے اور وفاقی وزراء کا لہجہ تکبر اور غرور سے بھرا ہوا ہے، تاہم یہ تکبر زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ میرپور ڈویژن، ایل اے 9 نکیال اور ایل اے 31 میں پی پی پی ورکرز پر تشدد، فائرنگ اور دھاندلی کی متعدد شکایات کے باوجود الیکشن کمیشن نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ پیپرز پہلے ہی ن لیگی امیدواروں کو دے دیے گئے تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی پی پی بدتمیزی یا گالم گلوچ کا راستہ اختیار نہیں کرے گی بلکہ تمام متعلقہ فورمز پر دلیل کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کرے گی۔
پیپلز پارٹی رہنما کے ان الزامات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر شرجیل میمن اس حکومت کو فارم 47 کی حکومت سمجھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس سسٹم کو چھوڑ دیں، وفاقی حکومت سے الگ ہو جائیں اور گورنر پنجاب کو کہیں کہ وہ گورنر ہاؤس خالی کر دیں۔
عظمیٰ بخاری نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”شرجیل میمن صاحب میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو نہ کریں“ اور اتنی دور نہ جائیں جہاں سے واپسی کا راستہ ختم ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام کو پیپلز پارٹی کے رونے دھونے سے کوئی دلچسپی نہیں، اور جس سسٹم کا وہ خود حصہ ہیں، اس پر الزام تراشی کرنے سے پہلے اپنی کارکردگی کا جائزہ لیں۔

