نریندر مودی کا جنتر منتر مظاہرین کو معاف کرنے کا اعلان

نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنتر منتر پر پپر لیکس کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے نوجوانوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اپوزیشن رہنماؤں نے اس اعلان پر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں نریندر مودی نے مظاہرین کو ’گمراہ شدہ بچے‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر پر مظاہروں کے دوران بعض نوجوانوں نے انہیں اور ان کی مرحومہ والدہ کو نا زیباں الفاظ کا نشانہ بنایا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ نوجوانی میں ہونے والی غلطیوں کی اصلاح مقدمات درج کرنے یا عدالتوں کے چکر لگوانے سے نہیں بلکہ رہنمائی اور گلے لگانے سے ہونی چاہیے، اس لیے وہ ان تمام طلبہ کو معاف کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ مظاہرے مئی میں امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کی زیرِ قیادت شروع ہوئے تھے، جس پر قابو پانے میں ناکامی پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

دوسری جانب اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے مودی کے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیپر لیکس اور کرپٹ نظام تعلیم کے باعث کئی طلبہ اور ان کے اہل خانہ تباہ ہوئے ہیں، ایسے میں طلبہ کو مودی کی معافی کی ضرورت نہیں بلکہ خود مودی جی کو طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔

اسی طرح معروف بھارتی یوٹیوبر دھرو راٹھی نے بھی مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر گالیاں دینا بری بات ہے تو مودی جی کو اپنے بی جے پی رہنماؤں اور ان کے آن لائن حامیوں کو بھی یہ بات سکھانی چاہیے۔