پاکستان نے امریکہ ایران ثالثی سے دستبرداری کا تاثر مسترد، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ آج بھی مؤثر اور قابلِ عمل فریم ورک ہے
اسلام آباد: پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ شدید کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے مابین جاری امن و ثالثی کی کوششوں سے دستبردار ہونے کے تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا ثالثی کا کردار اور کوششیں بدستور جاری ہیں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ خطے میں اس وقت فوجی کشیدگی وقتی طور پر غالب ضرور ہے، لیکن امن کا عمل کبھی مستقل ختم نہیں ہوتا بلکہ وقتی تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بالآخر ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی (مذاکرات اور سفارت کاری) کی سوچ ہی کامیاب ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (Islamabad MOU) آج بھی ایک مؤثر اور قابلِ عمل فریم ورک ہے اور جب بھی فریقین کشیدگی کا راستہ چھوڑیں گے، امن کی واپسی اسی یادداشت اور 22 جون کے ‘پاک قطر مشترکہ اعلامیے’ کے روڈ میپ کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔
ترجمان نے آبنائے ہرمز کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع سے متعدد ممالک کا غذائی تحفظ، تجارت اور توانائی کی ترسیل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے اور پاکستان وہاں سے پیٹرولیم مصنوعات کی باآسانی فراہمی پر یقین رکھتا ہے۔
خطے میں امن کی بحالی کے لیے تزویراتی رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے بتایا کہ 10 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں تمام فریقوں پر ضبط و تحمل اختیار کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی جنگ سے گریز کرنے پر زور دیا گیا۔
اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایرانی اور سعودی ہم منصبوں سے رابطے کیے ہیں۔
افغانستان کی صورتحال پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے انکشاف کیا کہ افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ امدادی قافلوں کو راستہ دیا ہے اور حال ہی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان سے لادے 45 ٹرک روانہ کیے گئے ہیں، تاہم افغان حکومت ان ٹرکوں کو اپنے ہاں داخلے کی اجازت دینے سے انکاری ہے۔
انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ جب تک افغانستان اپنی زمین پر موجود دہشت گردوں اور دہشت گردی کی پشت پناہی مکمل ختم نہیں کرتا، پاک افغان تعلقات کے درمیان جمی برف نہیں پگھل سکتی۔
دوسری جانب، انہوں نے پاک امریکہ تجارتی مذاکرات میں اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تجارت بڑھانے اور پاکستانی برآمدات میں تنوع لانے کے لیے کمیونیکیشن چینلز کھلے ہیں۔
ترجمان نے برطانیہ میں بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعے میں پاکستان کا نام گھسیٹنے کی کوششوں پر کہا کہ ملزم برطانوی شہری ہے جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، برطانوی حکومت اپنے قانونی تقاضے خود پورے کرے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے حریت قیادت کے خلاف دہائیوں پرانے فرضی مقدمات میں بھارتی اداروں کی نئی چارج شیٹ کی سخت مذمت کی اور اسے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت سے محروم کرنے کا سیاسی ایجنڈا قرار دیا۔
انہوں نے پہلگام واقعے میں پاکستان کو نتھی کرنے کے بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت آج تک اس کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سے مسلسل بھاگ رہا ہے۔
ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی اور تخریب کاری کی سرپرستی کا فوری نوٹس لے، کیونکہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

