خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑے حملے؛ لوئر دیر میں فورسز سے مقابلے میں 3 پولیس اہلکار شہید، بنوں میں تھانے پر خودکش کار حملہ

پشاور: خیبر پختونخوا کے اضلاع لوئر دیر اور بنوں میں دہشت گردوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنانے کے دو بڑے اور افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 3 پولیس اہلکار شہید اور 19 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور دونوں مقامات پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، لوئر دیر کے علاقے حیدرے کنڈو ٹاپ میں پولیس، محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور ایلیٹ فورس کی ٹیمیں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن کر رہی تھیں کہ اس دوران وہاں چھپے دہشت گردوں نے اچانک حملہ کر دیا۔

دونوں اطراف سے ہونے والے اس شدید اور خونریز مقابلے کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ 15 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ جھڑپ کے دوران دہشت گردوں نے پولیس کی تین موبائل گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔

تمام زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز (ڈی ایچ کیو) اسپتال تیمرگرہ منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

دوسری جانب، ضلع بنوں میں بھی دہشت گردی کی ایک ہولناک واردات سامنے آئی ہے جہاں دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک تیز رفتار گاڑی تھانہ میریان کی عمارت سے ٹکرا دی۔

تھانے کے گیٹ اور بیرونی دیوار پر دھماکے کے فوری بعد دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس حکام کے مطابق، اس حملے اور اس کے بعد ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں اب تک 4 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور پولیس و دہشت گردوں کے درمیان تاحال فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے دونوں علاقوں کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔