ہنگری کے وزیراعظم پیٹر میگیار پر شہباز شریف کی جانب سے تحفے میں ملے پاکستانی آموں کا جادو چل گیا، تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے
بڈاپسٹ: دنیا بھر میں اپنی مٹھاس، مسحور کن خوشبو اور منفرد ذائقے کی وجہ سے مشہور پاکستانی آموں کا جادو اب ہنگری کے وزیراعظم پر بھی چل گیا ہے۔
ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کے بعد اب ہنگری کے وزیراعظم پیٹر میگیار (Péter Magyar) بھی پاکستانی آموں کے لاجواب ذائقے کے دیوانے ہو گئے ہیں۔
ہنگری کے وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اپنے ہاتھ میں پاکستانی آم تھامے ہوئے ایک انتہائی خوشگوار تصویر شیئر کی اور ساتھ ہی ایک دلچسپ کیپشن بھی لکھا جو دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا۔
پیٹر میگیار نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "ایک تاریخی اور طویل دن کے اختتام پر جب میں اپنے دفتر پہنچا تو وہاں ایک انتہائی خوشگوار سرپرائز میرا انتظار کر رہا تھا۔ ہمیں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 90 آموں کا شاندار تحفہ موصول ہوا ہے۔”
انہوں نے آموں کے لذیذ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں مزید لکھا کہ "صرف ایک گھنٹے کے اندر ہی دفتر میں موجود لوگوں نے ان میں سے زیادہ تر آم ختم کر دیے اور اب محض چند ہی باقی بچے ہیں۔”
ہنگری کے وزیراعظم نے اپنی پوسٹ میں ایک طنزیہ اور مزاحیہ جملہ لکھتے ہوئے نیٹو سربراہی اجلاس کا احاطہ کیا جہاں انہیں مبینہ طور پر ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے ایک پستول تحفے میں ملی تھی۔
پیٹر میگیار نے لکھا کہ "ہر کوئی تحفے میں پستول نہیں دیتا”؛ ان کا اشارہ اسی واقعے کی طرف تھا جس کے بعد انہوں نے پاکستانی مٹھاس بھرے تحفے کو ہتھیار پر ترجیح دی اور اس شاندار اور رسیلے تحفے پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا دلی شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ سفارتی دنیا میں پاکستان کی "مینگو ڈپلومیسی” ایک طویل اور تاریخی مقام رکھتی ہے۔
ہر سال موسمِ گرما کے آغاز پر پاکستانی حکومت کی جانب سے دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت، وزرائے اعظم اور اہم سفارت کاروں کو تحفے کے طور پر اعلیٰ ترین کوالٹی کے آم بھیجے جاتے ہیں۔
سفارتی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آموں کے تبادلے سے نہ صرف پاکستان کی ثقافت اور زراعت کی دنیا بھر میں تشہیر ہوتی ہے بلکہ برادر ممالک کے ساتھ دوطرفہ سفارتی تعلقات کو بھی ایک نئی مٹھاس اور توانائی ملتی ہے۔

