بھارت کو بڑا سیکیورٹی دھچکا؛ سب سے بڑے کڈنکولم جوہری پاور پلانٹ کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک

تمل ناڈو: بھارت میں سائبر سیکیورٹی اور حساس ترین قومی تنصیبات کی حفاظت کے حوالے سے ایک سنسنی خیز اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے "رائٹرز” کے مطابق، دنیا کے بدنامِ زمانہ رینسم ویئر ہیکر گروپ "ورلڈ لیکس” نے بھارت کے سب سے بڑے کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ (Kudankulam Nuclear Power Plant) سے متعلق ہزاروں انتہائی حساس اور خفیہ فائلیں ڈارک ویب پر پبلک کر دی ہیں۔

کڈنکولم جوہری بجلی گھر بھارتی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے اور یہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملک میں جوہری توانائی کو وسعت دینے کے کلیدی منصوبوں کا مرکزی حصہ ہے۔

ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ڈیٹا بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کے ملکیتی "ریلائنس گروپ” سے چوری کیا گیا ہے، جس کے پاس کڈنکولم پلانٹ کے زیرِ تعمیر یونٹس کی تعمیر کا ٹھیکہ ہے۔

ریلائنس گروپ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والی تھرڈ پارٹی کمپنی "یوٹا” (Yotta) کے سرورز پر دراندازی ہوئی ہے جہاں ریلائنس کا ڈیٹا محفوظ تھا، اور اس واقعے سے حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ریلائنس انفراسٹرکچر نے سال 2018 میں پلانٹ کے یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے لیے ڈیزائن اور تعمیر کا ٹھیکہ لیا تھا، جو کہ 2027 تک فعال ہو کر مجموعی طور پر 2 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے زیرِ تعمیر ہیں۔

رائٹرز کے مطابق، لیک ہونے والی دستاویزات 2016 سے لے کر 2025 کے وسط تک کے دورانیے پر مشتمل ہیں۔

اگرچہ یہ ڈیٹا جوہری ری ایکٹرز کے بنیادی نظام سے براہِ راست منسلک نہیں ہے، تاہم اس میں کڈنکولم پلانٹ کے اہم ترین معاون سسٹمز جیسے کہ یونٹ 3 اور 4 کے وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے تفصیلی نقشے، سیکیورٹی کنٹرول روم کا فلور لے آؤٹ، آلات کے جائزے، تصاویر، اور سپلائرز کی مکمل تفصیلات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ریلائنس اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن کے درمیان ہونے والے مشترکہ اجلاسوں کے ریکارڈ اور ایک حساس ترین انشورنس پالیسی بھی افشا ہوئی ہے جس کے تحت دہشت گردی کے حملے کی صورت میں پلانٹ کو 112 ملین ڈالر تک کا معاوضہ ملنا طے پایا ہے۔

نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ اور دیگر سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ڈیٹا لیک بھارت کی قومی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس معلومات کی مدد سے مخالف اور تخریب کار عناصر پلانٹ کے سیکیورٹی ڈھانچے، سپلائرز اور معاون نظام کی کمزوریوں کا آسانی سے نقشہ تیار کر سکتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یہ پلانٹ نشانہ بنا ہو، اس سے قبل 2019 میں بھی شمالی کوریا کے مبینہ ہیکرز نے اس کے انتظامی نیٹ ورک پر میلویئر حملہ کیا تھا۔

حالیہ واقعے پر بھارتی جوہری توانائی کا ادارہ اور سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT-In) تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم بھارت کو ایک بار پھر ڈیٹا سیکیورٹی کے لحاظ سے دنیا کے غیر محفوظ ترین ممالک میں دیکھا جا رہا ہے۔