فلم ’ستلج‘ کو زی فائیو سے ہٹائے جانے پر دلجیت دوسانجھ کا پہلا ردعمل؛ جو مواد انٹرنیٹ پر آ جائے، اسے مٹانا ممکن نہیں

ممبئی: بھارتی گلوکار اور نامور اداکار دلجیت دوسانجھ نے عسکریت پسندی کے دور میں پنجاب میں ہونے والے مبینہ ماورائے عدالت قتل عام پر مبنی اپنی متنازع فلم ’ستلج‘ کو اسٹریمنگ پلیٹ فارم ‘زی فائیو’ (Zee5) سے اچانک ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار اس حساس معاملے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔

انسٹاگرام پر ایک لائیو سیشن کے دوران جب ایک مداح نے فلم کے مستقبل اور اس پر عائد پابندی سے متعلق سوال کیا، تو دلجیت دوسانجھ نے انتہائی بے باک جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب انہیں فلم کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی تشویش یا فکر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شروعاتی دنوں میں ضرور ذہنی تناؤ اور فکر تھی، لیکن اب حالات بالکل مختلف ہیں کیونکہ فلم ایک بار ناظرین تک پہنچ چکی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھ بھی چکے ہیں اور ڈاؤن لوڈ بھی کر چکے ہیں۔

دلجیت نے واضح کیا کہ جب کوئی مواد عوام کی دسترس میں آ جائے تو وہ انٹرنیٹ پر ہمیشہ کسی نہ کسی صورت موجود رہتا ہے، اس لیے اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فلم کو دوبارہ کب ریلیز کیا جائے گا۔

اداکار کا یہ لائیو بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہو گیا ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد اسے ڈیجیٹل دور میں سنسرشپ اور ریاستی دباؤ کے خلاف ایک مضبوط اور تیکھا تبصرہ قرار دے رہی ہے۔

انٹرنیٹ صارفین کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے زمانے میں کسی بھی تخلیقی مواد کو مکمل طور پر بلاک کرنا یا عوام سے چھپانا سنسر بورڈز کے بس کی بات نہیں رہا۔

یاد رہے کہ ہدایت کار ہنی ٹریہان کی یہ فلم پنجاب کے مایہ ناز انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی حقیقی زندگی اور ان کی جدوجہد پر مبنی ہے، جنہوں نے پنجاب میں بدامنی کے دور کے دوران پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل اور لاوارث قرار دے کر کی جانے والی ہزاروں خفیہ تدفین کے لرزہ خیز واقعات کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا تھا۔

یہ فلم اصل میں ’پنجاب 95‘ کے نام سے بنائی گئی تھی، لیکن بھارتی سنسر بورڈ کی جانب سے فلم پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے اور اس میں 120 سے زائد کٹس لگانے کی شرط رکھی گئی، جس کے باعث اس کی ریلیز تین سال سے زائد عرصے تک التوا کا شکار رہی۔

بالاآخر فلم کا نام تبدیل کر کے ’ستلج‘ رکھا گیا اور اسے رواں ماہ 3 جولائی کو زی فائیو پر پیش کیا گیا، لیکن مودی حکومت اور انتظامیہ کے مبینہ دباؤ کے باعث ریلیز کے محض دو دن بعد، 5 جولائی کو اسے بھارت میں اسٹریمنگ سے روک کر ہٹا دیا گیا۔

زی فائیو نے اس حوالے سے جاری کردہ اپنے مبہم بیان میں کہا تھا کہ موجودہ ملکی حالات کے پیشِ نظر فلم کو تاحکمِ ثانی بھارت میں دستیاب نہیں رکھا جا رہا، اور قانونی و انتظامی تقاضے پورے ہونے پر اسے دوبارہ پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

کمپنی نے فلم ہٹانے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی۔ دلجیت دوسانجھ کے اس حالیہ بیان نے جہاں فلم کو دوبارہ سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے، وہاں بھارت میں آزادیِ اظہارِ رائے پر بڑھتے ہوئے قدغنوں پر ایک بار پھر نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔