ایران کا امریکی فوجیوں کی ڈیجیٹل نگرانی اور مقامات کا سراغ لگانے کا انکشاف، مشرقِ وسطیٰ کے موبائل نیٹ ورکس ہیک کر لیے
واشنگٹن: ایران اور امریکہ کے مابین جاری حالیہ جنگ کے دوران ایک نیا اور انتہائی خطرناک فرنٹ سامنے آیا ہے، جہاں روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید سائبر وارفیئر کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز” نے اپنی ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک کے مقامی موبائل فون نیٹ ورکس پر بڑے سائبر حملے کیے اور انہیں ہیک کر لیا ہے۔
اس ہیکنگ کا بنیادی مقصد خطے میں موجود امریکی فوجی اہلکاروں، عسکری کنٹریکٹرز اور دفاعی عملے کی نقل و حرکت، روزمرہ کی سرگرمیوں اور ان کے درست جغرافیائی مقامات کا خفیہ سراغ لگانا تھا۔
خلیجی ممالک کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام کو قوی شبہ ہے کہ ایران یا اس کے اتحادی سائبر گروپس نے مختلف ملکوں کے مقامی ٹیلی کام آپریٹرز کے مابین موجود بین الاقوامی رومنگ معاہدوں (Roaming Agreements) کے تکنیکی نقائص کا فائدہ اٹھا کر یہ حساس ڈیٹا چوری کیا۔
اس پریشان کن انکشاف کے بعد امریکی ارکانِ پارلیمنٹ اور قانون سازوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی رومنگ سسٹم کی کمزوریوں اور اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والی اشتہاری ٹیکنالوجی (Ad-Tech) نے حساس مقامات پر تعینات امریکی فوجیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث ان پر براہِ راست جسمانی یا میزائل حملوں کی راہ ہموار ہوئی۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس جنگ کے دوران ایران اور اس کی حامی تنظیموں نے عراق، بحرین اور دیگر خلیجی خطوں میں ان مخصوص ہوٹلوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوج اور کنٹریکٹرز قیام پذیر تھے۔
اس سلسلے میں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں واقع ‘کراؤن پلازا ہوٹل’ پر ایک میزائل حملہ بھی ہوا، جو امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کو لاجسٹکس، رہائش اور دیگر خدمات فراہم کرنے کے کئی اہم معاہدے حاصل کر چکا تھا۔ اس حملے میں کئی امریکی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مخصوص عسکری حملوں کو سو فیصد ڈیجیٹل ہیکنگ سے جوڑنے کے لیے مزید گہری تحقیقات کی ضرورت ہے کیونکہ اہداف کے تعین کے لیے انسانی مخبر، ہوٹلوں کے آن لائن ریویوز اور فیس بک پوسٹس بھی استعمال ہوتی ہیں، تاہم ڈیجیٹل نگرانی کا کردار اس میں کلیدی رہا ہے۔
سابق سی آئی اے اہلکار مائیکل اسٹوکس نے اس حوالے سے واضح کیا کہ کسی کی جاسوسی کے لیے فون کا ہیک ہونا بھی لازمی نہیں ہے؛ کیونکہ اسمارٹ فونز ہر وقت بڑی مقدار میں ڈیٹا خارج کرتے ہیں جسے "ڈیجیٹل اخراج” (Digital Exhaust) کہا جاتا ہے۔
اس ڈیٹا سے کسی بھی شخص کا مقام، اس کے رابطے اور یہاں تک کہ روزانہ چلنے والے قدموں کی تعداد تک معلوم کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے سب سے بڑی خامی یہ بتائی کہ امریکی فوجی اور سرکاری ملازمین حساس مشنز کے دوران مخصوص سیکیورٹی پروٹوکول والے محفوظ فونز استعمال کرنے کے بجائے اپنے ذاتی اسمارٹ فونز ساتھ رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے ڈیجیٹل footprint کو ٹریس کرنا دشمن کے لیے انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔

