راولاکوٹ: آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولاکوٹ اور پونچھ ڈویژن میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسند جتھوں نے سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ایک رینجرز اور ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کا ایک جوان شدید زخمی ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی کے بعد 14 جولائی کی صبح مسلح شرپسندوں نے متیال میرہ بس ٹرمینل راولاکوٹ کے قریب پہلے شہری آبادی پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے بعد امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس اور ان کی معاونت کے لیے رینجرز کی نفری آگے بڑھی تو ان پر جدید ہتھیاروں سے سیدھی فائرنگ کر دی گئی۔ اس بزدلانہ حملے میں رینجرز کا ایک اہلکار جامِ شہادت نوش کر گیا۔
دوسری جانب، پونچھ ڈویژن بیٹھک کے علاقے میں کلیئرنس آپریشن کے دوران کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شدت پسندوں کی فائرنگ سے میرپور ٹریفک پولیس کے کانسٹیبل عاقب شہید ہو گئے، جبکہ فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے کانسٹیبل شہزاد گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جدید ترین خودکار ہتھیاروں اور بارودی مواد کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئی دہشت گردی ہے جس کا مقصد ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا ہے۔
اس واقعے نے کمیٹی کی نام نہاد پرامن جدوجہد کے دعوؤں کا بھانڈا پھوڑ کر ان کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور افراتفری پھیلانے والے ان عناصر کے خلاف حکومت نے اب سخت ترین قانونی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر حکومت نے قانون شکنی کرنے والے ان انتشاری عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ماضی میں ان کے خلاف درج مقدمات کی واپسی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد میرپور پولیس نے دوبارہ قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے تمام پرانے مقدمات کو فعال کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق، تھانہ ڈڈیال میں سال 2024 کے دوران اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس نفری پر حملے کے مقدمے کو بھی دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے اس گروہ کے سرغنہ مہران کے قریبی ساتھی ظہیر سمیت 6 اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر نامزد مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے پرامن ماحول کو بگاڑنے کی کسی بھی سازش کو کچلنے کے لیے ان مسلح جتھوں کے خلاف بلاامتیاز اور حتمی سیکیورٹی آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔

