کالعدم تنظیم کا پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینے کا ایجنڈا بے نقاب، شرپسندوں کے خلاف آپریشن ناگزیر ہوچکا، سیکریٹری داخلہ آزاد کشمیر
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے سیکرٹری داخلہ چوہدری گفتار حسین نے سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ہمراہ خطے کی موجودہ صورتحال پر ایک اہم پریس کانفرنس کی ہے۔
سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کشمیر کے دیرینہ تاریخی رشتے کو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے کی سازش کی جا رہی ہے اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا اصل مقصد پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینا اور افواجِ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حقوق کے نام پر احتجاج کا لبادہ اوڑھ کر دھونس، بلیک میلنگ اور پروپیگنڈے کی سیاست کو مستقل ہتھیار بنا لیا گیا ہے، جبکہ تاجروں کو دھمکیاں دینا اور زبردستی بازار بند کروانا اس کالعدم تنظیم کا وطیرہ بن چکا ہے۔
چوہدری گفتار حسین نے انکشاف کیا کہ متیال میرہ بس ٹرمینل راولاکوٹ میں شرپسندوں نے معصوم شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ کی، اور جب پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پانا چاہا تو ان پر خودکار ہتھیاروں اور بارود سے حملہ کیا گیا۔ اس بزدلانہ حملے میں ریاست کا ایک جوان شہید اور ایک زخمی ہوا۔
انہوں نے واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اہم ترین کوٹلی تا تراڑکھل شاہراہ کی بحالی کے لیے بلوچ بازار کے مقام پر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور تمام شاہراہوں کی مکمل کلیئرنس اور شرپسندوں کے خاتمے تک یہ آپریشن بلا تفریق جاری رہے گا تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران سیکرٹری تعلیم آزاد کشمیر نے بھی معصوم بچوں، طالبات اور خواتین کو احتجاجی سرگرمیوں میں بطور "انسانی ڈھال” لانے کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ عوامی تائید کھونے کے بعد کالعدم کمیٹی طلبہ کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں انتشاری سیاست کا ایندھن بنانا چاہتی ہے جو ان کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔
اس سنگین خدشے کے پیش نظر محکمہ داخلہ اور محکمہ تعلیم نے راولاکوٹ کے تمام تعلیمی اداروں کو ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ طلبہ کو کسی بھی دھرنے یا مظاہرے کا حصہ نہ بننے دیں اور والدین کو بھی صورتحال سے فوری آگاہ کریں۔
سیکرٹری داخلہ نے مزید بتایا کہ کالعدم کمیٹی کے سرغنہ خواجہ مہران کی جانب سے انٹری پوائنٹس بند کرنے کی 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن ماضی کی طرح ناکام ثابت ہو گی کیونکہ آزاد کشمیر کے غیور عوام ان کے انتشاری ایجنڈے کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، لیپہ اور کیل سمیت بیشتر اضلاع میں معمولات زندگی مکمل بحال ہیں اور وہاں 13 جولائی سے سمر کیمپس کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی گروہ کو عوام کی زندگی، کاروبار، اور تعلیم کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

