ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو پہلے سے زیادہ تباہ کن اور فیصلہ کن جواب ملے گا، نیتن یاہو کی تہران کو نئی دھمکی
تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کو سخت ترین لہجے میں خبردار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران نے دوبارہ اسرائیل پر حملے کی حماقت کی، تو اس بار تل ابیب کا جوابی وار پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن، طاقتور اور فیصلہ کن ہو گا۔
جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں منعقدہ نیگیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ دن گرز چکے ہیں جب اسرائیل پر کوئی حملہ کرتا تھا اور ہم خاموشی اختیار کر لیتے تھے یا ہمارا ردعمل کمزور ہوتا تھا؛ اب کسی بھی نئی اشتعال انگیزی کا جواب پوری عسکری قوت کے ساتھ دیا جائے گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے تنازع پر عارضی جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور خطہ ایک بار پھر باقاعدہ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔
جنگ کا دوبارہ آغاز اس وقت ہوا جب ایران نے الزام عائد کیا کہ اس نے ایک معاہدے کے تحت عارضی طور پر 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز سے ٹول فری گزرنے کی اجازت دی تھی، مگر امریکہ نے دھوکا دہی کے ذریعے وہاں غیر قانونی بحری راستہ بنانے کی کوشش کی، جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے والے ایک بڑے تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔
اس ایرانی کارروائی کے جواب میں امریکہ نے ایران کے اندر فوجی اہداف کے ساتھ ساتھ اس اہم تجارتی ریلوے پل کو بھی فضائی حملے میں تباہ کر دیا ہے جو ایران کو قازقستان اور روس سے ملاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ڈیل کے خاتمے اور حملے جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیراعظم کی اس گیدڑ بھبکی پر ایرانی فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔
تہران سے جاری ہونے والے ایک بیان میں جنرل محمد اکرم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو جنگ، بمباری یا نیتن یاہو اور ٹرمپ کی کھلی دھمکیوں کے ذریعے نہیں کھولا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو عالمی قوانین اور خودمختار ممالک کی سرحدوں کا احترام کرنا سیکھنا ہو گا۔
ایرانی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ امریکہ تہران کے جائز حقوق کو تسلیم کرے اور خطے میں اپنی غیر قانونی فوجی مداخلت اور مہم جوئی کا فوری خاتمہ کرے۔

