آبنائے ہرمز کا متبادل؛ متحدہ عرب امارات کا فجیرہ میں نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ بنانے کا فیصلہ

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے ساتھ جاری شدید علاقائی عسکری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش اور بحری تجارت کو لاحق خطرات سے بچنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز” کی رپورٹ کے مطابق، دبئی کی عالمی شہرت یافتہ بندرگاہی کمپنی "ڈی پی ورلڈ” (DP World) مشرقی ساحل پر واقع اماراتی ریاست فجیرہ میں ایک نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ کی تعمیر اور وہاں ایک جدید کنٹینر ٹرمینل قائم کرنے کے لیے فجیرہ کے مقامی حکام کے ساتھ ہنگامی مذاکرات کر رہی ہے۔

اس بڑے منصوبے کا بنیادی مقصد دبئی کی سب سے بڑی بندرگاہ "جبل علی پورٹ” پر انحصار کم کرنا اور ایک ایسا محفوظ متبادل تجارتی تجارتی نیٹ ورک بنانا ہے جہاں سے تجارتی کارگو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر براہِ راست امارات میں داخل اور یہاں سے باہر روانہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے خلیجی ممالک کی سیکیورٹی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ایران کی جانب سے اب تک متحدہ عرب امارات کی حدود میں تقریباً 3 ہزار ڈرونز اور میزائل داغے جا چکے ہیں، جو خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ عسکری نقصان ہے۔

اس سنگین صورتحال اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کے بعد سے دبئی کی معروف جبل علی پورٹ کی سرگرمیوں میں 90 سے 95 فیصد تک کی غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے، جس نے اماراتی معیشت اور عالمی سپلائی چین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

اسی بحران سے نمٹنے کے لیے اماراتی کمپنی نے فجیرہ کا متبادل راستہ تلاش کیا ہے جو براہِ راست خلیجِ عمان پر واقع ہے اور آبنائے ہرمز کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

ڈی پی ورلڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے برطانوی اخبار کو تصدیق کی ہے کہ اگر تمام انتظامی، تکنیکی اور جغرافیائی مراحل شیڈول کے مطابق طے پاتے رہے تو اس کثیرالمقاصد بندرگاہ کو آئندہ ڈیڑھ سال (18 ماہ) کے اندر مکمل طور پر فعال کیا جا سکتا ہے۔

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ فجیرہ کی طرف توجہ منتقل کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جبل علی پورٹ کی اہمیت کم ہو جائے گی یا اسے بند کر دیا جائے گا، بلکہ یہ موجودہ غیر یقینی ملکی و علاقائی حالات میں ایک ہنگامی حفاظتی شیلڈ کا کام کرے گی۔

دوسری جانب، دارالحکومت ابوظہبی پہلے ہی اپنے خام تیل کا ایک بڑا حصہ بائی پاس پائپ لائنز کے ذریعے فجیرہ پورٹ پہنچا کر وہاں سے برآمد کرتا ہے، اور اب نئے منصوبے کے تحت مستقبل میں آبنائے ہرمز پر انحصار کو صفر کرنے کے لیے فجیرہ کے راستے تیل کی برآمدات کی صلاحیت کو ریکارڈ حد تک بڑھانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 135 تجارتی جہاز گزرتے تھے لیکن حالیہ جنگ کے بعد عارضی جنگ بندی کے باوجود یہ تعداد روزانہ 40 جہازوں سے اوپر نہیں جا سکی ہے۔

ایسے حالات میں امارات کا یہ طویل المدتی معاشی منصوبہ خلیجی تجارت کا رخ تبدیل کرنے میں اہم ترین سنگِ میل ثابت ہو گا۔