زیارت میں پولیس چوکی پر فتنہ الخوارج کا حملہ؛ 2 ایس ایچ اوز سمیت 9 اہلکار شہید، مشترکہ کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشت گرد ہلاک

کوئٹہ: بلوچستان کے سیاحتی ضلع زیارت کے علاقے کاچ مانگی فیز تھری میں مروجہ سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز سمیت بلوچستان پولیس کے 9 افسران و اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔

اس سنگین واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز، فرنٹیر کونسٹیبلری (ایف سی)، سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ایک مروجہ اور بڑا مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کیا، جس کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 15 خوارج دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر اور ایس پی زیارت عبدالقدوس دہوار کے مطابق، رات بھر جاری رہنے والے اس معرکے میں تھانہ مانگی کے ایس ایچ او محمد حسین اور تھانہ کواس کے ایس ایچ او صحبت خان سمیت دیگر 7 اہلکار شہید ہوئے۔ دیگر شہداء میں ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ (اے ٹی ایف انچارج)، عبدالباقی، شیر محمد، منصور احمد، محمد اشرف اور آزاد خان شامل ہیں۔

حملے کے دوران دہشت گرد چند مقامی افراد اور کچھ کانسٹیبلز کو اغوا کر کے پہاڑوں کی طرف لے گئے تھے، تاہم فورسز کی فوری مروجہ جوابی کارروائی کے باعث پانچ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8 پولیس اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزر کر بحفاظت تھانہ کاچ پہنچنے میں کامیاب رہے۔

واقعے کے خلاف مقامی شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے زیارت کراس کے مقام پر قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو بلوچستان کے امن سے کھیلنے کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے اور صوبے میں ان کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں چھوڑی جائے گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے پولیس افسران اور جوانوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے اس حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ عناصر بلوچستان کی ترقی، امن اور عوام کی خوشحالی کے کھلے دشمن ہیں، لیکن ہم امن دشمنوں کے مکمل سدباب تک ان کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کو ‘بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وطنِ عزیز کے امن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں اور ایسے بزدلانہ حملے مروجہ امن کو سبوتاژ نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ درحقیقت پاکستان کی بقا اور استحکام کی جنگ ہے، جس میں پوری قوم اپنی مروجہ عسکری و سول سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

حکام کے مطابق، علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے۔