اسلام آباد: قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے لیے 18 ہزار 700 ارب روپے سے زائد مالیت کے بھاری وفاقی بجٹ اور فنانس بل 2026-27 کی کثرتِ رائے سے باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
بجٹ کا یہ اہم ترین اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سمیت حکومتی و اپوزیشن اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی۔
فنانس بل کی منظوری کے ساتھ ہی یکم جولائی سے نافذ العمل ہونے والے نئے معاشی و ٹیکس قوانین کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جبکہ وزیرِ خزانہ کی تحریک پر ایوان کا معمول کا ایجنڈا معطل کر کے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی رپورٹ پر تفصیلی غور کیا گیا۔
نئے فنانس بل کے مطابق، حکومت نے درآمدی (امپورٹڈ) گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کے تحت یکم جولائی سے 2000 سے 3000 سی سی تک کی گاڑیوں پر 86 فیصد اور 3001 سی سی سے زائد کی پرتعیش گاڑیوں پر 92 فیصد امپورٹ ڈیوٹی عائد ہوگی۔
اس کے علاوہ، ڈیجیٹل اکانومی کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے سوشل میڈیا اور آن لائن آمدن بشمول یوٹیوب (YouTube) سے ہونے والی کمائی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
دوسری جانب، عوام کو ریلیف دینے اور فلاحی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے پاکستان نیوی بینیولنٹ ایسوسی ایشن، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT)، اورنگی ٹاؤن کے ویلفیئر اداروں اور میک اے وش فاؤنڈیشن کو ٹیکسوں میں مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے، جبکہ پی آئی اے (PIA) کے جہازوں کے پرزوں پر 15 سال تک سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔
انکم ٹیکس سلیب کے تحت سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جبکہ دیگر سلیبز پر 1 سے 35 فیصد تک ٹیکس لاگو ہوگا۔
فنانس بل کی کثرتِ رائے سے منظوری کے بعد اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس اگلے روز صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

